data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-01-24
تہران /واشنگٹن /مسقط (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوسرا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا عندیہ اور ایرانی آئل ٹینکرز ضبط کرنے پر غور شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، جن میں تہران کے تیل لے جانے والے مزید بحری جہازوں کو قبضے میں لینا بھی شامل ہے۔ امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق وزارت خزانہ نے رواں سال ایرانی تیل کی ترسیل کرنے والے 20 سے زاید جہازوں پر پابندیاں عاید کی ہیں، جس کے بعد وہ قبضے میں لیے جانے کے ممکنہ اہداف بن چکے ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی نے اطلاع دی ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اصفہان جوہری مقام کی طرف جانے والے تمام سرنگوں کے راستوں کو مٹی تلے دبا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس تنصیب پر امریکی یا اسرائیلی حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر ایران کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی پر غور کرنا شروع کر دیا۔ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں، خطے میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہوں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے کسی معاہدے پر نہ پہنچے تو سخت کارروائی کرنا پڑے گی، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی ایران کے ساتھ ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے خطے میں دوسرا طیارہ بردار بیڑا بھیجنے پر بات چیت ہوئی ہے، اس وقت یوایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا اسٹرائیک گروپ پہلے ہی تعینات ہے۔امریکی عہدیدار نے مزید بتایا کہ اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، ٹوما ہاک میزائل اور متعدد جنگی جہاز شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات سے قبل بنیامین نیتن یاہو نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال اور کسی ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیلی اخبار “یدیعوت آحرونوت” نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ فریقین نے علاقائی امور پر بات کی، اور وٹکوف و کشنر نے گزشتہ جمعے کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید ایرانی آئل ٹینکروں کو ضبط کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تہران کی سب سے بڑی آمدنی کے ذریعے تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کی معیشت پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم اس فیصلے کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔سب سے بڑا خدشہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی ہے جسے امریکی عہدیدار تقریباً یقینی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے امریکا کے ساتھ معاہدہ نہ کیا تو یہ اس کی ’بیوقوفی‘ ہوگی۔ عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے لیے ’جوہری ہتھیار نہیں، میزائل نہیں‘ جیسی واضح شرائط شامل ہونی چاہئیں۔ ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ ان کی بیوقوفی ہوگی۔ ہم نے پچھلی بار ان کی جوہری طاقت کو ختم کیا تھا اور اس بار دیکھیں گے کہ کیا مزید کارروائی کرنی پڑے گی۔ ایران نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا امریکا کا دورہ بحران پیدا کرسکتا ہے۔ مشیر ایرانی قومی سلامتی علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات میں امریکا کی سوچ حقیقت پسندانہ ہے، امریکا کے ساتھ گفتگو میں صرف جوہری معاملات کو موضوع بنایا گیا، واشنگٹن نے مذاکرات میں فوجی، میزائل پروگرام کو شامل نہیں کیا۔ مشیر ایرانی قومی سلامتی کی عمان کے سلطان سے بھی ملاقات ہوئی، ایران اورعمان کے درمیان تعلقات سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر “حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا”۔ ان کا یہ بیان تہران کے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے اسلامی انقلابِ ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت کے آزادی اسکوائر پر ایک تقریر میں کہا، ” ایران ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔” اس دفعہ یہ سالگرہ امریکا کی طرف سے فوجی دھمکیوں کے پس منظر میں آئی ہے۔”ہمارا ایران جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا لیکن ہم خطے میں امن و سکون قائم کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی پوری طاقت سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔”پیزشکیان نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کی “کسی بھی تصدیق” کے لیے تیار ہے اور اصرار کیا کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا‘ ہم نے بارہا یہ کہا ہے اور کسی بھی تصدیق کے لیے تیار ہیں۔”ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ایک مشیر نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت اس کی سرخ لکیر ہے اور اس پر گفتگو مذاکرات کا موضوع نہیں ہے۔ تہران اور واشنگٹن حالیہ کشیدگی اور تنازعات کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والے ہیں۔امریکا کی جانب سے ایران کے لیے خطرہ بننے والی علاقائی بحریہ کی تعیناتی کے درمیان امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے عمان میں بالواسطہ بات چیت کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق علی شمخانی نے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ مارچ میں شرکت کرتے ہوئے کہا، “اسلامی جمہوریہ کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔” واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کی جوہری صلاحیتوں پر مذاکرات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کا میزائل پروگرام بھی ان میں شامل کیا جائے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن اس نے ان مذاکرات میں میزائل سمیت دیگر معاملات شامل کرنے سے بارہا انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا امریکا کا دورہ بحران پیدا کرسکتا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو کہا ہے کہ نے کہا کہ ایران کے کہ ایران ایران کی کے مطابق کرنے کے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی