ٹرمپ کا ایران کیخلاف دوسرا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا عندیہ،مزید ایرانی آئل ٹینکرز ضبط کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-01-24
تہران /واشنگٹن /مسقط (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوسرا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا عندیہ اور ایرانی آئل ٹینکرز ضبط کرنے پر غور شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، جن میں تہران کے تیل لے جانے والے مزید بحری جہازوں کو قبضے میں لینا بھی شامل ہے۔ امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق وزارت خزانہ نے رواں سال ایرانی تیل کی ترسیل کرنے والے 20 سے زاید جہازوں پر پابندیاں عاید کی ہیں، جس کے بعد وہ قبضے میں لیے جانے کے ممکنہ اہداف بن چکے ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی نے اطلاع دی ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اصفہان جوہری مقام کی طرف جانے والے تمام سرنگوں کے راستوں کو مٹی تلے دبا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس تنصیب پر امریکی یا اسرائیلی حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر ایران کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی پر غور کرنا شروع کر دیا۔ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں، خطے میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہوں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے کسی معاہدے پر نہ پہنچے تو سخت کارروائی کرنا پڑے گی، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی ایران کے ساتھ ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے خطے میں دوسرا طیارہ بردار بیڑا بھیجنے پر بات چیت ہوئی ہے، اس وقت یوایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا اسٹرائیک گروپ پہلے ہی تعینات ہے۔امریکی عہدیدار نے مزید بتایا کہ اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، ٹوما ہاک میزائل اور متعدد جنگی جہاز شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات سے قبل بنیامین نیتن یاہو نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال اور کسی ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیلی اخبار “یدیعوت آحرونوت” نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ فریقین نے علاقائی امور پر بات کی، اور وٹکوف و کشنر نے گزشتہ جمعے کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید ایرانی آئل ٹینکروں کو ضبط کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تہران کی سب سے بڑی آمدنی کے ذریعے تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کی معیشت پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم اس فیصلے کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔سب سے بڑا خدشہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی ہے جسے امریکی عہدیدار تقریباً یقینی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے امریکا کے ساتھ معاہدہ نہ کیا تو یہ اس کی ’بیوقوفی‘ ہوگی۔ عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے لیے ’جوہری ہتھیار نہیں، میزائل نہیں‘ جیسی واضح شرائط شامل ہونی چاہئیں۔ ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ ان کی بیوقوفی ہوگی۔ ہم نے پچھلی بار ان کی جوہری طاقت کو ختم کیا تھا اور اس بار دیکھیں گے کہ کیا مزید کارروائی کرنی پڑے گی۔ ایران نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا امریکا کا دورہ بحران پیدا کرسکتا ہے۔ مشیر ایرانی قومی سلامتی علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات میں امریکا کی سوچ حقیقت پسندانہ ہے، امریکا کے ساتھ گفتگو میں صرف جوہری معاملات کو موضوع بنایا گیا، واشنگٹن نے مذاکرات میں فوجی، میزائل پروگرام کو شامل نہیں کیا۔ مشیر ایرانی قومی سلامتی کی عمان کے سلطان سے بھی ملاقات ہوئی، ایران اورعمان کے درمیان تعلقات سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر “حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا”۔ ان کا یہ بیان تہران کے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے اسلامی انقلابِ ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت کے آزادی اسکوائر پر ایک تقریر میں کہا، ” ایران ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔” اس دفعہ یہ سالگرہ امریکا کی طرف سے فوجی دھمکیوں کے پس منظر میں آئی ہے۔”ہمارا ایران جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا لیکن ہم خطے میں امن و سکون قائم کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی پوری طاقت سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔”پیزشکیان نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کی “کسی بھی تصدیق” کے لیے تیار ہے اور اصرار کیا کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا‘ ہم نے بارہا یہ کہا ہے اور کسی بھی تصدیق کے لیے تیار ہیں۔”ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ایک مشیر نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت اس کی سرخ لکیر ہے اور اس پر گفتگو مذاکرات کا موضوع نہیں ہے۔ تہران اور واشنگٹن حالیہ کشیدگی اور تنازعات کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والے ہیں۔امریکا کی جانب سے ایران کے لیے خطرہ بننے والی علاقائی بحریہ کی تعیناتی کے درمیان امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے عمان میں بالواسطہ بات چیت کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق علی شمخانی نے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ مارچ میں شرکت کرتے ہوئے کہا، “اسلامی جمہوریہ کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔” واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کی جوہری صلاحیتوں پر مذاکرات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کا میزائل پروگرام بھی ان میں شامل کیا جائے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن اس نے ان مذاکرات میں میزائل سمیت دیگر معاملات شامل کرنے سے بارہا انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا امریکا کا دورہ بحران پیدا کرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو کہا ہے کہ نے کہا کہ ایران کے کہ ایران ایران کی کے مطابق کرنے کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔