data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-8-4
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ایس ایس پی حیدر آباد عدیل حسین چانڈیو نے کہا ہے کہ حیدرآباد پولیس کی جرائم کی ریکوری اور ٹریسنگ کا تناسب اطمینان بخش ہے اور پولیس صنعتی علاقوں میں سیکورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز کے چیئرمین زبیر گھانگرا کی دعوت پر ایسوسی ایشن کے دفتر میں صنعتکاروں اور پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتکار اپنی فیکٹریوں، مین چوکوں، گلیوں اور سڑکوں پر معیاری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں اور انہیں مناسب بیک اپ کے ساتھ ایک سینٹرلائزڈ اور انٹیگریٹڈ سسٹم سے منسلک کریں تاکہ مجموعی سیکورٹی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ایس ایس پی نے چوکیداروں کی تعیناتی اور ان کی باقاعدہ پولیس ویریفکیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس عمل کو ایپ کے ذریعے لازمی بنایا جائے تاکہ جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صنعتی اور حساس علاقوں میں پولیس مانیٹرنگ اور پیٹرولنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ نفری بھی بڑھائی جا رہی ہے۔اجلاس کا مقصد صنعتی علاقے میں امن و امان کو مزید بہتر بنانا اور صنعتکاروں اور پولیس کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنا تھا۔اس سے قبل چیئرمین زبیر گھانگرہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ صنعتی ترقی کا دار و مدار پرامن ماحول پر ہوتا ہے اور اس ضمن میں پولیس کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے حیدرآباد پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صنعتکار برادری ہمیشہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔بعد ازاں چیئرمین زبیر گھانگرا اور صنعتکاروں کے ساتھ ایس ایس پی حیدرآباد نے صنعتی علاقے میں امن و امان کے قیام کے وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15مددگار سائٹ کا افتتاح کیا۔ اس نئے مددگار سائٹ میں ابتدائی طور پر 18جوان اور 4موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں جس سے صنعتی اور اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔سینئر وائس چیئرمین عامر شہاب نے ایس ایس پی حیدرآباد اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صنعتی علاقوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن پولیس کے ساتھ ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گی تاکہ صنعتوں کو پرامن اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر سرپرست اعلی مظہر الحق، وائس چیئرمین ایسر کمار،ممبر منیجنگ کمیٹی محمد فاروق شیخانی، شریف پونجانی، ڈائریکٹر ز ڈی ایس موٹرز علی گھانگھرا، ڈائریکٹر ہائی اسپیڈ موٹر سائیکل عمران لاکھانی بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ایس پی انہوں نے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار