بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم ہوگیا، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ آج کی ووٹنگ ماضی کے ’منظم اور اسٹیجڈ انتخابات‘ اور بیلٹ باکس چھیننے کی روایت سے واضح انحراف ہے، جبکہ ملک بھر میں ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی ہے۔
’اب کوئی اسٹیجڈ الیکشن نہیں ہوگا‘ڈھاکہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر الدین نے کہا کہ پولنگ عملے کو سختی سے غیر جانبدار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’اس ملک میں اب کوئی اسٹیجڈ الیکشن نہیں ہوگا۔ ہمیں پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے اور بیلٹ باکس چھیننے کی تاریخ کو بھلا دینا ہوگا۔‘
خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور شرکتچیف الیکشن کمشنر کے مطابق ووٹنگ میں خاص طور پر خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جو الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو اعتماد نہ ہوتا تو وہ ووٹ ڈالنے نہ آتے۔
ناصر الدین نے بتایا کہ شدید دھند کے باوجود دیہی علاقوں میں صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔
سوشل میڈیا اور اے آئی سے پھیلنے والی غلط معلومات تشویش کا باعثناصر الدین نے خبردار کیا کہ غلط معلومات اور پروپیگنڈا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ 50 فیصد سے زائد گمراہ کن معلومات ملک سے باہر سے پھیلائی جا رہی ہیں، جہاں ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حکمت عملی جھوٹی خبروں کا مقابلہ مصدقہ معلومات سے کرنا ہے، اور مرکزی دھارے کے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ووٹنگ کے عمل کے دوران درست معلومات کی فراہمی میں تعاون کرے۔
’جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو چکے ہیں‘ناصر الدین نے ووٹنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن قوم کو جشن کے ماحول میں انتخابات کا تحفہ دینا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے لوگ اپنے آبائی علاقوں کی طرف اسی طرح جا رہے ہیں جیسے عید منانے گھر جاتے ہیں تاکہ ووٹ ڈال سکیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو چکا ہے اور جلد اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔
بین الاقوامی مبصرین مطمئن قرارناصر الدین کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے درجنوں بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور واچ ڈاگ تنظیموں سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبصرین الیکشن کمیشن کے اقدامات سے بہت مطمئن ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 چیف الیکشن کمشنر انہوں نے کہا کہ ناصر الدین نے الیکشن کمیشن
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔