بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ڈھاکہ ( نیوزڈیسک) بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی جیتے گی یا جماعت اسلامی کا اتحاد؟ پولنگ کا آغاز ہو گیا، 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز ملک کو نئی قیادت دیں گے، حالیہ قانون سازی پر بھی رائے دیں گے۔
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کےامیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔
300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔
عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے جبکہ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لےرہے۔
انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے فوج بھی تعینات ہے، ملک بھر میں کل 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، شہری آئیں اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالیں۔
پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئی، پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، پارلیمنٹ میں 50نشستیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔
واضح رہے کہ پولنگ کے دوران عوام سے حالیہ قانون سازی کی حمایت یا مخالفت پر رائے کیلئے ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔
ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، جن میں قریباً 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی نگرانی اور سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔
انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے 69 ریٹرننگ افسران اور 598 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 85 ہزار 225 پولنگ اہلکار ووٹنگ کے عمل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی پارٹی کی واضح برتری سامنے آئے کیونکہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف چلنے والی احتجاجی لہر کے اثرات سے ملک ابھی تک پوری نہیں نکل پایا ہے اور اس کا اثر ملک کی معیشت اور انڈسٹری پر بھی پڑا جس میں گارمنٹس کی صنعت بھی شامل ہے جس کے لیے اسے دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلہ دیش بی این پی کے لیے
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.