طلبا کو بیرون ملک روزگار دلانے کا حکومتی وعدہ، نجی کمپنیوں نے حکومت کو کروڑوں روپے کا چونا لگا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم زمینی حقائق اس اعلان کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران صرف 250 ہنرمند نوجوانوں کو سعودی عرب، قطر اور بحرین بھجوایا جا سکا، جبکہ ہزاروں منتخب امیدوار تاحال انتظار میں ہیں۔
بی ٹیوٹا کے ذریعے منتخب کی جانے والی نجی کنسلٹنٹ کمپنیوں کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے جاری کیے گئے.
متاثرین کے مطابق بعض کمپنیوں نے یورپی ممالک کے لیے فی کس 25 لاکھ روپے اور جرمنی کے لیے 35 لاکھ روپے تک وصول کیے، لیکن تاحال کسی بھی نوجوان کو یورپ نہیں بھجوایا جا سکا۔
متاثرہ نوجوانوں میر حسن نے الزام عائد کیا کہ بی ٹیوٹا نے ترکش کنسلٹنٹ کمپنی، ریڈیس کمپنی اور ایک اور نجی کمپنی کو منتخب کیا تھا، جن میں سے 2 کمپنیاں ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ایک بھی نوجوان کو بیرونِ ملک روزگار فراہم نہ کر سکیں۔
متاثرین کے مطابق ترکش کنسلٹنٹ کمپنی کو 15 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے اور اس نے 3 تربیتی سیشن منعقد کیے، جن میں 580 نوجوانوں کو منتخب کیا گیا، تاہم انہیں تاحال بیرونِ ملک نہیں بھیجا گیا۔
طالب علم میر حسن نے کہا کہ منتخب نوجوانوں کی اصل اسناد کمپنی کے پاس موجود ہیں اور بعض امیدواروں کو مبینہ طورپرجعلی ورک پرمٹس جاری کیے گئے۔ ایک خاتون کو جرمنی میں ڈانس بارمیں ملازمت کا ورک پرمٹ دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب بی ٹیوٹا حکام کا کہنا ہے کہ نجی کنسلٹنٹ کمپنیاں ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، جس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغازکردیا گیا ہے۔
ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ الزامات موصول ہوتے ہی بی ٹیوٹا کے منیجنگ ڈائریکٹر کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا اور سی ایم آئی ٹی کے ذریعے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
معاملہ نئے تعینات ہونے والے ایم ڈی کے زیرِ جائزہ ہے اور معمول کے مطابق امور کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کو بھی عوامی فنڈز میں خردبرد کا ذمہ دار پایا گیا تو اسے قانون کے مطابق جوابدہ بناتے ہوئے مثال قائم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 3 کنسلٹنٹ کمپنیوں میں سے صرف ایک کمپنی نے 250 نوجوانوں کو خلیجی ممالک بھجوایا، جبکہ باقی کمپنیوں کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
نوجوانوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان جرمنی ڈانس بار سرفراز بگٹی کوئٹہ وزیر اعلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان ڈانس بار سرفراز بگٹی کوئٹہ وزیر اعلی کنسلٹنٹ کمپنی نوجوانوں کو کے مطابق بی ٹیوٹا
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔