پشاور؛ رہزنوں کو دیکھنے والے نوجوان کو گولی مارنے کی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پشاور:
فقیر آباد میں موبائل چھیننے کی واردات کے دوران رہزنوں کو دیکھنے والے نوجوان کو گولی مارنے کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی۔
پولیس کے مطابق شہری سے موبائل فون چھیننے کے دوران قریب موجود ایک نوجوان نے ملزمان کو دیکھ لیا، جس پر رہزنوں نے فائرنگ کر دی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی شروع کی۔
مزید پڑھیںپشاور میں مسلح افراد نے نجی بینک میں داخل ہوکر عملے کو یرغمال بنایا اور گارڈ کو قتل کردیا
ایس پی فقیر آباد کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر ملزمان کی شناخت کر لی گئی تھی۔ بعد ازاں پولیس مقابلے کے دوران دونوں رہزن ہلاک ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ملزمان کا پانچ مختلف تھانوں میں کریمنل ریکارڈ موجود تھا اور وہ اس سے قبل بھی موبائل اسنیچنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔