بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سنگین انکشافات، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز) سپریم کورٹ کے احکامات پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والے فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بانی کی صحت، جیل سہولیات اور قانونی امور سے متعلق اہم انکشافات اور سفارشات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل طور پر متاثر ہوئی، جس پر انہیں ہسپتال منتقل کر کے انجکشن لگائے گئے۔ تاہم بانی کے مطابق علاج کے باوجود انہیں دائیں آنکھ سے صرف 10 سے 15 فیصد تک نظر آ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی، مگر اکتوبر کے بعد دائیں آنکھ سے دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا۔

بانی پی ٹی آئی نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بارہا آنکھ کی تکلیف سے آگاہ کیا، لیکن شکایت کے باوجود تین ماہ تک مناسب علاج نہیں کرایا گیا۔ بعد ازاں پمز ہسپتال کے ماہرِ چشم ڈاکٹر عارف نے معائنہ کیا، تاہم علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد باقی رہ گئی ہے۔

رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ انہیں گزشتہ پانچ ماہ سے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ انہوں نے بہنوں اور دیگر رشتہ داروں سے ملاقات نہ ہونے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔

جیل سہولیات سے متعلق بانی پی ٹی آئی نے شکایت کی کہ سردیوں میں انہیں صرف ایک چھوٹا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں سیل میں شدید حبس ہوتا ہے۔ انہوں نے مچھر اور کیڑے مکوڑوں کی موجودگی، گرمیوں میں نیند پوری نہ ہونے اور ریفریجریٹر کی سہولت میسر نہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔ بانی کے مطابق فراہم کیا جانے والا کول باکس مؤثر نہیں ہوتا اور گرمیوں کے دوران انہیں دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو دو سال سے زائد عرصے سے تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنی رپورٹ میں جیل حکام کو فوری طبی اقدامات کی سفارش کی ہے۔ مزید برآں کتابوں کی فراہمی یقینی بنانے، منصفانہ قانونی ٹرائل فراہم کرنے اور بانی پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے کے ڈر سے بیرون ملک سے آنے والے مسافر نے چھلانگ لگادی ایف آئی اے کے ڈر سے بیرون ملک سے آنے والے مسافر نے چھلانگ لگادی سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم دھاندلی کی صورت میں کسی کو نہیں بخشا جائے گا: امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ایران سے ڈیل پہلی ترجیح، ورنہ انجام سنگین ہوگا، ٹرمپ بنگلادیش میں عام انتخابات کیلئے پولنگ شروع، سخت ترین سیکورٹی انتظامات، 12 کروڑ سے زائد افراد ووٹنگ میں حصہ لے سکیں گے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق