’میرا بیٹا مجھے کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے‘، احمد شہزاد شو کے دوران آبدیدہ ہوگئ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سابق اوپنر بیٹر احمد شہزاد ایک ٹی وی شو کے دوران جذباتی ہو گئے انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا 9 سال کا ہے اور وہ مجھے کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔
تابش ہاشمی کے شو میں ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا رات کو میرے ساتھ سوتا ہے وہ میرا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے لیکن اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ میں ویسے خوش ہوں لیکن یہ چیز ہے جو میرے دل کو لگی اور مجھے شدید دکھ ہوتا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Cricflow (@cricflow.
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کھیلنے کی بہت خواہش ہے اور دوسروں کو کھیلتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ گزشتہ اٹھارہ سال کے اپنے تجربات اور یادیں ہمیشہ ان کے ذہن میں رہتی ہیں اس لیے لیگز کے ابتدائی دو تین دن ان کے لیے خاصے مشکل تھے۔
احمد شہزاد نے واضح کیا کہ ان کے نام کے حوالے سے مختلف افواہیں چلائی جاتی ہیں جیسے ان کی ریٹائرمنٹ یا بین لگنے کی خبریں جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرا نام پی ایس ایل میں آتا تو ٹیم اور لیگ دونوں کو فائدہ ہوتا۔ میرا اٹھارہ سے انیس سال کا تجربہ ٹیم کی قیادت میں کام آ سکتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد شہزاد پاکستان کرکٹ پی ایس ایل تابش ہاشمی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ پی ایس ایل تابش ہاشمی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔