پورا ایران انقلاب کی حفاظت اور رہبر انقلاب کی اطاعت میں یکجا اور ہم آواز ہے، مسعود پزیشکیان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
تھران میں نکالی کی ریلی کے لاکھوں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو آج یہ نظر آنا چاہیے کہ ایرانی عوام انقلاب کی حفاظت اور رہبر انقلاب کی اطاعت کے لیے میدان میں موجود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر تھران میں نکالی کی ریلی کے لاکھوں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو آج یہ نظر آنا چاہیے کہ ایرانی عوام انقلاب کی حفاظت اور رہبر انقلاب کی اطاعت کے لیے میدان میں موجود ہیں۔ تھران کے آزادی اسکوائر میں انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران، اقدار اور اس سرزمین کے دفاع کے لیے عوام کی موجودگی ایک عظیم اعزاز ہے۔ "یوم اللہ" کی وضاحت کے لئے بانی انقلاب کے الفاظ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا "یوم اللہ وہ دن ہے، جب انسان ظلم، جارحیت، دھونس اور استبداد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔"
پزیشکیان نے مزید کہا کہ "ہم اس لیے اٹھے ہیں کہ انصاف کی بالادستی ہو، تاکہ ہم خود مختار ہوں، تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ایرانی اپنی صلاحیتوں سے اپنے ملک کی تعمیر اور وقار اور آزادی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ وہ دن ہے جس دن سے انقلاب کی کامیابی ہوئی، نسلی تعصب، دھڑے بندی، بغاوت اور کوئی بھی آفت جو ایران پر انقلاب کی ترقی میں رکاوٹ ڈال سکتی تھی، امریکہ اور یورپی ممالک نے انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش کی، انہوں نے ایران کو تقسیم کرنے، فتح کرنے اور اسے شکست پر مجبور کرنے کے لیے آٹھ سال تک مسلط کردہ جنگ کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ان دنوں ہمارے جوان اور وہ لوگ جنہوں نے ایران کے دفاع کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی تھیں، شہید ہو گئے تھے، اگر ان عزیزان کو عوام کی خدمت کی اجازت دی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ انہوں نے ایرانی مسلح افواج کے شہید کمانڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اور وہ لوگ جنہوں نے ایران کے نام پر دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو چلا سکتے ہیں، ان شہداء کی جانوں اور خدمات کا جائزہ لیں کہ کیا ان کے پاس اپنی جانوں کے علاوہ کوئی سرمایہ ہے؟، ملک سے باہر بیٹھ کر لوگ نام نہاد دعوے کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انقلاب کی کرتے ہوئے کہ ایران انہوں نے نے ایران کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔