مریم نواز راشن کارڈ کی تقسیم کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کلیم اختر: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے راشن کارڈ پروگرام کے تحت کارڈز کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تقسیم کی موجودہ صورت حال پر اعلیٰ سطحی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک لاکھوں محنت کشوں میں راشن کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں اور مزید مستحق افراد کو شامل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق ماہِ رمضان میں مریم نواز راشن کارڈ پر ’’نگہبان رمضان پیکج‘‘ کی خصوصی سہولت بھی میسر ہوگی۔ اس دوران ہر محنت کش کو معمول کے 3 ہزار روپے کے بجائے 10 ہزار روپے منتقل کیے جائیں گے تاکہ وہ مہنگائی کے دباؤ میں بہتر انداز سے اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
پنجاب میں رمضان نگہبان پیکج کے تحت کارڈز کی تقسیم شروع
محمد منشاء اللہ نے بریفنگ میں بتایا کہ مستحق افراد کو راشن لینے یا کیش نکلوانے دونوں میں سے کسی ایک سہولت کا انتخاب کرنے کی اجازت ہوگی۔ رمضان المبارک کے بعد مستحق خاندانوں کو معمول کے مطابق 3 ہزار روپے ماہانہ راشن سبسڈی فراہم کی جاتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق ورکرز اور محنت کش طبقے کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کا اساتذہ کی پرموشنز کیلئے بڑا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: راشن کارڈ مریم نواز
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟