پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا آرڈیننس نافذ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
حسن علی: پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا آرڈیننس نافذ کر دیا گیا,گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دے دی۔
حکومت نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 1929 میں ترمیم کر دی جس کے تحت پنجاب میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہیں ہوسکے گی۔آرڈیننس کے تحت نکاح کے وقت دولہا اور دلہن کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازمی قراردیاگیاہے، کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہوگا اورکریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔
آرڈیننس کے تحت کم عمری کا نکاح رجسٹر کرنے والے اور نکاح خواں کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا،کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، 18 سال سے کم عمر کی شادی زیادتی کے زمرے میں شمارہوگی جبکہ اسکی سزا 7 سال اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
آرڈیننس کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو کسی دوسرے صوبے میں لے جا کر شادی کروانے والے کو 7 سال قید 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،18 سال سے کم عمر کے بچوں کے سرپرست یا کوئی بھی شخص اگر کم عمری کی شادی کروانے کی کوشش کرے گا تو اسکو 2 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا،آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سرد ہواؤں سے خنکی برقرار، لاہور آلودہ ترین شہروں میں تیسرے نمبر پر
آرڈیننس کے متن کے مطابق تین سال سے دو سال تک قید کی سزا جبکہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،نکاح رجسٹرار اور والدین بھی قانون کی زد میں آئیں گے،چائلڈ میرج روکنے کیلئے انتظامیہ کو خصوصی اختیارات حاصل ہونگے۔
پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری پنجاب اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں لی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔