حوزہ علمیہ قم میں دفاعِ ولایت کانفرنس اور احتجاجی جلسہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
مولانا نصرت عباس بخاری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، بیداری اور باہمی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مثبت کردار ادا کرنے اور علمی و اخلاقی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ اسلام ٹائمز۔ حوزہ علمیہ قم میں طلابِ اردو زبان کی جانب سے "دفاعِ ولایت کانفرنس" اور اسلام آباد میں حالیہ دھماکے کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں علماء، طلباء اور مختلف ملی و دینی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجتماع کا مقصد رہبرِ معظم کی حمایت کا اعادہ، قومی یکجہتی کا اظہار اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تھا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، تلاوت کے فرائض قاری بشارت امامی نے انجام دیئے، جس کے بعد شاعر محترم جناب صائب جعفری نے اشعار پیش کیے۔ شرکاء نے بانگِ تکبیر کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اتحادِ امت کا پیغام دیا۔
پروگرام میں نظامت کے فرائض مولانا یاسین مجلسی نے انجام دیئے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مراد رضا رضوی نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری بصیرت اور دینی شعور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے رہبرِ معظم کی قیادت کو امتِ مسلمہ کے لیے وحدت و استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلابِ علومِ دینیہ کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں شعور، صبر اور استقامت کا پیغام عام کریں۔ اسی طرح مولانا نصرت عباس بخاری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، بیداری اور باہمی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مثبت کردار ادا کرنے اور علمی و اخلاقی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
اجتماع کے اختتام پر تمام شریک ملی تنظیموں، اداروں اور حوزہ علمیہ قم کے اردو زبان طلاب کی جانب سے ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا گیا، جس کو مولانا سید کمیل شیرازی نے پیش کیا، جس میں رہبرِ معظم کی حمایت، دہشت گردی کی مذمت اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بیانیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اختلافات کے باوجود قومی اور دینی وحدت کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پروگرام کے آخر میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعائے خیر کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ