Islam Times:
2026-07-24@01:22:15 GMT

حوزہ علمیہ قم میں دفاعِ ولایت کانفرنس اور احتجاجی جلسہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

حوزہ علمیہ قم میں دفاعِ ولایت کانفرنس اور احتجاجی جلسہ

مولانا نصرت عباس بخاری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، بیداری اور باہمی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مثبت کردار ادا کرنے اور علمی و اخلاقی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ اسلام ٹائمز۔ حوزہ علمیہ قم میں طلابِ اردو زبان کی جانب سے "دفاعِ ولایت کانفرنس" اور اسلام آباد میں حالیہ دھماکے کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں علماء، طلباء اور مختلف ملی و دینی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجتماع کا مقصد رہبرِ معظم کی حمایت کا اعادہ، قومی یکجہتی کا اظہار اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تھا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، تلاوت کے فرائض قاری بشارت امامی نے انجام دیئے، جس کے بعد شاعر محترم جناب صائب جعفری نے اشعار پیش کیے۔ شرکاء نے بانگِ تکبیر کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اتحادِ امت کا پیغام دیا۔

پروگرام میں نظامت کے فرائض مولانا یاسین مجلسی نے انجام دیئے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مراد رضا رضوی نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری بصیرت اور دینی شعور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے رہبرِ معظم کی قیادت کو امتِ مسلمہ کے لیے وحدت و استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلابِ علومِ دینیہ کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں شعور، صبر اور استقامت کا پیغام عام کریں۔ اسی طرح مولانا نصرت عباس بخاری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، بیداری اور باہمی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مثبت کردار ادا کرنے اور علمی و اخلاقی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔

اجتماع کے اختتام پر تمام شریک ملی تنظیموں، اداروں اور حوزہ علمیہ قم کے اردو زبان طلاب کی جانب سے ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا گیا، جس کو مولانا سید کمیل شیرازی نے پیش کیا، جس میں رہبرِ معظم کی حمایت، دہشت گردی کی مذمت اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بیانیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اختلافات کے باوجود قومی اور دینی وحدت کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پروگرام کے آخر میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعائے خیر کی گئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم