وزیراعظم محمد شہباز شریف کا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن12 فروری 2026 پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
آج تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت و عفریت اور تشدد آمیز نظریات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی روشن مثال اور باعث فخر ہیں۔ اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان اس امر پر بھی زور دیتا ہےکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔ عالمی منظر نامہ پر طویل حل طلب تنازعات بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی بھی انتہا پسندانہ رویہ کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ آئیے آج کے دن ہم سب مل کر ایک پرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کا عہد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں