ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: محمد نبی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مشکل میں پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے کی زد میں آگئے۔
تفصیلات کے مطابق محمد نبی گزشتہ روز جنوبی افریقا کے خلاف میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے جس کے باعث ان پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق محمد نبی نے لیول ون کی خلاف ورزی کی، جو کہ پلیئرز اور پلیئر سپورٹ پرسنل کے لیے مقرر کردہ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.
یہ شق انٹرنیشنل میچ کے دوران امپائر کی ہدایت نہ ماننے سے متعلق ہے۔
یہ واقعہ افغانستان کی اننگز کے 14ویں اوور کے آغاز پر پیش آیا، جب محمد نبی نے جنوبی افریقا کے فاسٹ بولر لنگی نگیڈی کی کلائی پر بندھے بینڈ کے حوالے سے امپائرز سے بحث کی تھی۔
Afghanistan's all-rounder Nabi fined 15% match fee + 1 demerit point for Level 1 ICC breach vs SA in #T20WorldCup.
Questioned umpires on Lungi Ngidi's wristband. Nabi accepted the sanction without a formal hearing.
Check the video ????#T20WorldCup2026 #SAvAFG #SAvsAFG pic.twitter.com/KSfVt2n9mi
واضح رہے کہ انتہائی سنسنی خیز میچ کے دوسرے سپر اوور میں جنوبی افریقا نے افغانستان کو شکست دے کر ایونٹ سے تقریباً باہر کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی ضابطہ اخلاق
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔