سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کا تخمینہ ہمارے کئی سال کے بجٹ سے زیادہ تھا: وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ----فائل فوٹو
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کا تخمینہ ہمارے کئی سال کے بجٹ سے زیادہ تھا، ہمیں عالمی بینک نے پہلی امداد دی، ایک ہفتے میں ہم نے وفاقی حکومت اور عالمی بینک کے ذریعے 900 ملین ڈالر جمع کیے۔
کراچی میں ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسیفک غیر معمولی دلکش مناظر اور زندہ دل کمیونٹیز کا حامل خطہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصروف شہروں سے دور دیہات تک یہ خطہ اربوں لوگوں کا گھر ہے اور اس خطے کی مزاحمت، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتیں ہم سب کے لیے متاثر کن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب لوگ مشترکہ عزم کے ساتھ رہائش اور شیلٹر کے مسائل حل کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، مجھے فخر ہے کہ سندھ دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروگرام کے ساتھ اس فورم کی میزبانی کر رہا ہے اور آج دنیا بھر کے لوگ منصوبے کی وسعت اور اثرات دیکھنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے صدر ورلڈ بینک نے ایس پی ایچ ایف مکانات کا دورہ کیا، دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے مسائل.
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب میں 70 فیصد سندھ زیرِ آب آگیا تھا اور 21 لاکھ مکانات متاثر ہوئے، مجھے فخر ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو سے کیا گیا وعدہ پورا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مکانات ریکارڈ وقت میں تعمیر کیے گئے اور بحالی کے عمل میں معیار قائم کیا گیا، سندھ کی خاص بات اور عالمی توجہ کا سبب کمزور طبقے پر مرکوز ماڈل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خاندانوں بالخصوص خواتین کو قیادت دے کر ملکیت، وقار اور سماجی تبدیلی پیدا کی گئی، یہ نقطہ نظر دنیا کو دکھاتا ہے کہ کمیونٹیز پر اعتماد اور انہیں بااختیار بنانا بحالی کو آسان بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس پی ایچ ایف کے ذریعے بڑے پیمانے پر بحالی، جدت اور سماجی تبدیلی ممکن بنا کر دکھائی گئی اور خاندان محض وصول کنندہ نہیں بلکہ اپنی بحالی کے فعال شراکت دار ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام بین الاقوامی و قومی شراکت داروں اور ماہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئیں ہر خاندان کے لیے محفوظ اور باوقار رہائش کے مستقبل کی جانب کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد متاثرین کی سب سے بڑی شکایت تھی کہ انہیں گھر بنا کر دیں، چیئرمین بلاول بھٹو کو ہر علاقے میں ایک ہی مطالبہ سننے کو ملا، 2010ء میں پورا صوبہ سیلاب میں ڈوب گیا تھا، 2022ء کے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، ماضی میں سیلاب کے بعد مستقل ہاؤسنگ حل پر توجہ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے جب اس پر کام کرنے کہا ابتدا میں یہ ایک سرسری بات لگی، سیلاب میں 21 لاکھ سے زائد گھروں کا نقصان ہوا، گھروں کی تعمیر کے لیے 600 ارب روپے درکار تھے، عالمی بینک نے منصوبے میں تعاون فراہم کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔