افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق ایران کے فیصلے کے بارے میں علم نہیں، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ ازبکستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ازبکستان کے صدر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا جبکہ ترجیحی تجارتی معاہدے کو مزید وسیع کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق قازقستان کے صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم و صدر مملکت سے ملاقاتیں کیں۔ سیکیورٹی اور دفاعی امور پر گفتگو ہوئی اور جائنٹ ملٹری ایکسرسائز پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 1 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے اکنامک منسٹر سے رابطہ کیا جبکہ ایران کے وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کی دو مرتبہ گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قانونی ٹیم نے ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کی سماعت میں شرکت کی۔ بھارت کو عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت شرکت کی دعوت دی تھی اور بھارت اس سماعت میں شرکت کا پابند تھا۔ پاکستان نے تجدید کی کہ فریقین پر سندھ طاس معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے، گزشتہ برس ایسے واقعات میں 55 مسلمان جانوں سے گئے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں مقامی انتظامیہ بھی منہ اور آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ ہم بھارتی حکومت سے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی 1267 پابندیاں کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ڈی فیکٹو افغان انتظامیہ کی پشت پناہی سے ٹی ٹی پی پاکستان میں آزادانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ شمالی افغانستان میں آئی ایس کے پی کے فعال ہونے کا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی آزادانہ نقل و حرکت اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ قتنۃ الہند، قتنۃ الخوارج اور بی ایل اے کے درمیان تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ہم نے خلوص نیت سے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ دورہ میونخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ 90 گھنٹے کی جنگ میں امریکہ کے امن کردار کی تعریف کی۔ ہم نے بھارتی جنگی طیارے گرائے اور اس کی تصدیق ان طیاروں کو بنانے والی کمپنیوں نے بھی کی۔ مستقبل میں بھارتی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اسلام آباد دھماکے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں زیادہ زور توجیہات پر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ نقشہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
کرکٹ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ کرکٹ میں سیاست ملوث کرنا افسوسناک ہے۔ ہم نے بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کھیل کو ہتھیار نہ بننے دینے کے لیے کیا تھا جبکہ بھارت کرکٹ کو بنگلہ دیش کے خلاف ہتھیار بنانا چاہ رہا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرض رول اوور کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار کی مثبت کوششوں سے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کا بیان تفصیلی ہے، سفارت کاری جھڑپوں اور جنگ میں بھی جاری رہتی ہے۔ ہم افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں چاہتے۔
افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق ایران کے فیصلے کے بارے میں علم نہیں تاہم یہ ہر ملک کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ ان کا اپنا ہے، ہم اس پر تبصرہ نہیں کرتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترجمان نے کہا کہ پر اتفاق کیا اسحاق ڈار میں شرکت کیا گیا کے خلاف
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔