پاک بھارت کرکٹ: قومی وقار کی قربانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ کرکٹ کی بحالی پر ہونے والی بحث محض کھیل تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ قومی وقار، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی سوالات کو جنم دے چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی اجازت، خواہ وہ سری لنکا، دبئی یا کسی اور نیوٹرل وینیو پر ہی کیوں نہ ہو، ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بھارت برسوں سے پاکستان کی سرزمین پر کرکٹ کھیلنے سے مسلسل انکار کرتا آرہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف یک طرفہ نرمی کی علامت ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی اُبھرتا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف کو پس ِ پشت ڈال کر محض آئی سی سی، اے سی سی یا چند دوست ممالک کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاک بھارت کرکٹ ہمیشہ سیاست کے زیر ِ اثر رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہ توازن مکمل طور پر بھارت کے حق میں جھک چکا ہے۔ بھارت کھیل کو بطور سفارتی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بار بار ’’کھیل کو کھیل رہنے دینے‘‘ کی اپیل کر کے خود کو کمزور پوزیشن میں لے آتا ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ کرکٹ ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کن شرائط پر اور کس وقار کے ساتھ؟
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے انکار کا آغاز باضابطہ طور پر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا، جب بھارتی حکومت نے سیکورٹی خدشات اور دہشت گردی کے الزامات کی بنیاد پر تمام دوطرفہ کرکٹ معطل کر دی۔ اس سے قبل 2004 سے 2007 کے درمیان پاک بھارت کرکٹ سیریز ہوئیں، جنہیں برصغیر میں امن کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ 2012-13 میں بھارت نے ایک مختصر دورے کے لیے پاکستان کی ٹیم کو مدعو کیا، مگر اس کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ منقطع ہو گیا۔ اڑی حملہ (2016)، پٹھان کوٹ، پلوامہ اور بعد ازاں دیگر واقعات کو بنیاد بنا کر بھارت نے نہ صرف دوطرفہ کرکٹ ختم رکھی بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ’’غیر محفوظ‘‘ ملک کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی جاری رکھی۔ یہ فیصلہ محض بی سی سی آئی کا نہیں بلکہ بھارتی وزارتِ خارجہ اور بی جے پی حکومت کی براہِ راست ہدایات کا نتیجہ ہے۔ بھارت کھل کر یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ ’’ریاستی پالیسی‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، پاک بھارت مقابلے صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے ایونٹس تک محدود کر دیے گئے ہیں، وہ بھی نیوٹرل وینیوز پر، جہاں مالی، نشریاتی اور تشہیری فائدہ زیادہ تر بھارت کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام کرکٹ بورڈز بھارت کے تابع ہیں، مگر حالیہ برسوں میں بنگلا دیش کی مثال اس تاثر کو جزوی طور پر چیلنج کرتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بنگلا دیش نے بھی سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پاکستان کے دوروں سے گریز کیا، خاص طور پر 2017 میں لاہور میں مجوزہ ٹی ٹوینٹی سیریز سے انکار کیا گیا، تاہم حالیہ برسوں میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھارت کے دباؤ کو کھلے عام چیلنج بھی کیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل کے تحت ہونے والے ایونٹس، خصوصاً ایشیا کپ کی میزبانی اور وینیو کے معاملات پر بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ بنگلا دیش نے بعض مواقع پر بھارت کی خواہشات کے برخلاف مؤقف اپنایا اور یہ واضح کیا کہ کرکٹ کو مکمل طور پر بھارتی سیاست کے تابع نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھی گئی، جس کا اعتراف خود بھارتی میڈیا نے کیا۔ یہ مثال پاکستان کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر بنگلا دیش جیسے نسبتاً کمزور بورڈ بھی اصولی مؤقف اپنا سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، ارادے کا ہے۔
پاکستان اس وقت شدید داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار ہے۔ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں دہشت گرد حملے، خیبر پختون خوا میں ٹارگٹ کلنگ اور اسلام آباد جیسے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں مساجد پر حملے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاستی رِٹ کمزور ہو چکی ہے۔ ان حالات میں وزارتِ داخلہ کا کردار نہایت تشویشناک دکھائی دیتا ہے۔ سنگین واقعات کو محض ’’ایس ایچ او کی سطح کا مسئلہ‘‘ قرار دینا یا انہیں معمول کی بدانتظامی کہہ کر ٹال دینا ریاستی غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ بلوچستان میں علٰیحدگی پسند تحریکیں، بیرونی مداخلت کے شواہد اور سرحد پار روابط کے باوجود توجہ کا مرکز کرکٹ بن جانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں شاعر کا یہ مصرعہ تلخ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے: ’’بے حیائی کی خیر ہو یا ربّ، لوگ غیرت سے مر گئے ہوتے‘‘۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2024 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی مزید نیچے آنا محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ریاستی زوال کی علامت ہے۔ عدلیہ، بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اسے ’’معمولی کمی‘‘ قرار دینا دراصل عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
بھارت میں ہندو قوم پرست سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، دہلی فسادات، شہریت قوانین اور مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد نے بھارت کے سیکولر دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنا محض کھیل نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔ اگر پاکستان خود کو کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کا وکیل سمجھتا ہے تو پھر اسے عملی سطح پر بھی اس کا اظہار کرنا ہوگا۔ اگر وزارتِ داخلہ کی ترجیحات میں داخلی سلامتی کے بجائے کرکٹ سرِفہرست ہے تو پھر اس محکمہ کو ایسے شخص کے حوالے کیا جانا چاہیے جو امن و امان کو سنجیدگی سے لے۔ داخلی سلامتی تجربے، سیاسی بصیرت اور سخت فیصلوں کی متقاضی ہے، نہ کہ علامتی سرگرمیوں کی۔
پاکستان کو واضح اعلان کرنا چاہیے کہ: جب تک بھارت پاکستان میں کرکٹ کھیلنے پر آمادہ نہیں ہوتا کشمیر میں مظالم بند نہیں کیے جاتے۔ دہشت گردی کے الزامات کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنا ترک نہیں کیا جاتا۔ تب تک بھارت کے ساتھ کرکٹ نہیں ہوگی، خواہ وہ نیوٹرل وینیو پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کرکٹ کی جنگ نہیں، قومی وقار کی جنگ ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے اس مؤقف کو ’’یو ٹرن‘‘ قرار دینا دراصل اس ذہنیت کی عکاسی ہے جس میں پاکستان کو کسی بھی حال میں دفاعی پوزیشن میں رکھا جائے۔ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلے تو بھارتی میڈیا اسے ’’انتہاپسند‘‘ اور ’’تنہائی کا شکار‘‘ قرار دیتا ہے، اور اگر پاکستان مشروط آمادگی ظاہر کرے تو یہی حلقے اسے کمزوری، پسپائی اور یوٹرن سے تعبیر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ پاکستان کے فیصلے کا نہیں، بلکہ بھارت کی اس ضد کا ہے کہ پاکستان کو وقار کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حق ہی نہ دیا جائے۔
پاکستان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارتی میڈیا یا بی سی سی آئی کی خوشنودی کبھی بھی اس کے حق میں نہیں جائے گی۔ کھیلنا ہو یا نہ کھیلنا دونوں صورتوں میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھیرایا جائے گا۔ ایسے میں واحد دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر ڈٹ جائے، وضاحتیں دینا بند کرے اور یہ واضح پیغام دے کہ قومی وقار کسی اسکور بورڈ سے بڑا ہوتا ہے۔ کرکٹ وقتی خوشی دے سکتی ہے، مگر اصولوں کی قربانی ریاستوں کو طویل المدت کمزوری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ وقت بھارت کے بیانیے کے پیچھے چلنے کا نہیں، بلکہ اپنے بیانیے کو واضح، دوٹوک اور غیر مبہم بنانے کا ہے۔ پاکستان اگر واقعی خودمختار ریاست ہے تو اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کھیل کو سفارتی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ برابری اور عزت کے اصول پر کھیلے گا۔ جب تک بھارت پاکستان میں کرکٹ کھیلنے، کشمیر میں مظالم روکنے اور دہشت گردی کے الزامات کو سیاسی ہتھیار بنانا ترک نہیں کرتا، تب تک کسی بھی سطح پر لچک دکھانا قومی وقار سے دستبرداری کے مترادف ہوگا۔ یہ کرکٹ کی ضد نہیں، ریاستی غیرت کا سوال ہے اور قومیں ایسے سوالوں پر سمجھوتا نہیں کرتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کے ساتھ کرکٹ ہے کہ پاکستان داخلی سلامتی کرکٹ کھیلنے پاکستان میں پاکستان کی پاکستان کو پاکستان کے کی جانب سے بنگلا دیش پاک بھارت کی علامت کہ بھارت کا نہیں ا ہے کہ
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘