Jasarat News:
2026-06-02@22:06:19 GMT

پاک بھارت کرکٹ: قومی وقار کی قربانی

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ کرکٹ کی بحالی پر ہونے والی بحث محض کھیل تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ قومی وقار، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی سوالات کو جنم دے چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی اجازت، خواہ وہ سری لنکا، دبئی یا کسی اور نیوٹرل وینیو پر ہی کیوں نہ ہو، ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بھارت برسوں سے پاکستان کی سرزمین پر کرکٹ کھیلنے سے مسلسل انکار کرتا آرہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف یک طرفہ نرمی کی علامت ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی اُبھرتا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف کو پس ِ پشت ڈال کر محض آئی سی سی، اے سی سی یا چند دوست ممالک کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاک بھارت کرکٹ ہمیشہ سیاست کے زیر ِ اثر رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہ توازن مکمل طور پر بھارت کے حق میں جھک چکا ہے۔ بھارت کھیل کو بطور سفارتی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بار بار ’’کھیل کو کھیل رہنے دینے‘‘ کی اپیل کر کے خود کو کمزور پوزیشن میں لے آتا ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ کرکٹ ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کن شرائط پر اور کس وقار کے ساتھ؟

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے انکار کا آغاز باضابطہ طور پر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا، جب بھارتی حکومت نے سیکورٹی خدشات اور دہشت گردی کے الزامات کی بنیاد پر تمام دوطرفہ کرکٹ معطل کر دی۔ اس سے قبل 2004 سے 2007 کے درمیان پاک بھارت کرکٹ سیریز ہوئیں، جنہیں برصغیر میں امن کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ 2012-13 میں بھارت نے ایک مختصر دورے کے لیے پاکستان کی ٹیم کو مدعو کیا، مگر اس کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ منقطع ہو گیا۔ اڑی حملہ (2016)، پٹھان کوٹ، پلوامہ اور بعد ازاں دیگر واقعات کو بنیاد بنا کر بھارت نے نہ صرف دوطرفہ کرکٹ ختم رکھی بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ’’غیر محفوظ‘‘ ملک کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی جاری رکھی۔ یہ فیصلہ محض بی سی سی آئی کا نہیں بلکہ بھارتی وزارتِ خارجہ اور بی جے پی حکومت کی براہِ راست ہدایات کا نتیجہ ہے۔ بھارت کھل کر یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ ’’ریاستی پالیسی‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، پاک بھارت مقابلے صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے ایونٹس تک محدود کر دیے گئے ہیں، وہ بھی نیوٹرل وینیوز پر، جہاں مالی، نشریاتی اور تشہیری فائدہ زیادہ تر بھارت کو ہی حاصل ہوتا ہے۔

اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام کرکٹ بورڈز بھارت کے تابع ہیں، مگر حالیہ برسوں میں بنگلا دیش کی مثال اس تاثر کو جزوی طور پر چیلنج کرتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بنگلا دیش نے بھی سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پاکستان کے دوروں سے گریز کیا، خاص طور پر 2017 میں لاہور میں مجوزہ ٹی ٹوینٹی سیریز سے انکار کیا گیا، تاہم حالیہ برسوں میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھارت کے دباؤ کو کھلے عام چیلنج بھی کیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل کے تحت ہونے والے ایونٹس، خصوصاً ایشیا کپ کی میزبانی اور وینیو کے معاملات پر بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ بنگلا دیش نے بعض مواقع پر بھارت کی خواہشات کے برخلاف مؤقف اپنایا اور یہ واضح کیا کہ کرکٹ کو مکمل طور پر بھارتی سیاست کے تابع نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھی گئی، جس کا اعتراف خود بھارتی میڈیا نے کیا۔ یہ مثال پاکستان کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر بنگلا دیش جیسے نسبتاً کمزور بورڈ بھی اصولی مؤقف اپنا سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، ارادے کا ہے۔

پاکستان اس وقت شدید داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار ہے۔ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں دہشت گرد حملے، خیبر پختون خوا میں ٹارگٹ کلنگ اور اسلام آباد جیسے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں مساجد پر حملے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاستی رِٹ کمزور ہو چکی ہے۔ ان حالات میں وزارتِ داخلہ کا کردار نہایت تشویشناک دکھائی دیتا ہے۔ سنگین واقعات کو محض ’’ایس ایچ او کی سطح کا مسئلہ‘‘ قرار دینا یا انہیں معمول کی بدانتظامی کہہ کر ٹال دینا ریاستی غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ بلوچستان میں علٰیحدگی پسند تحریکیں، بیرونی مداخلت کے شواہد اور سرحد پار روابط کے باوجود توجہ کا مرکز کرکٹ بن جانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں شاعر کا یہ مصرعہ تلخ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے: ’’بے حیائی کی خیر ہو یا ربّ، لوگ غیرت سے مر گئے ہوتے‘‘۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2024 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی مزید نیچے آنا محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ریاستی زوال کی علامت ہے۔ عدلیہ، بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اسے ’’معمولی کمی‘‘ قرار دینا دراصل عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

بھارت میں ہندو قوم پرست سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، دہلی فسادات، شہریت قوانین اور مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد نے بھارت کے سیکولر دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنا محض کھیل نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔ اگر پاکستان خود کو کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کا وکیل سمجھتا ہے تو پھر اسے عملی سطح پر بھی اس کا اظہار کرنا ہوگا۔ اگر وزارتِ داخلہ کی ترجیحات میں داخلی سلامتی کے بجائے کرکٹ سرِفہرست ہے تو پھر اس محکمہ کو ایسے شخص کے حوالے کیا جانا چاہیے جو امن و امان کو سنجیدگی سے لے۔ داخلی سلامتی تجربے، سیاسی بصیرت اور سخت فیصلوں کی متقاضی ہے، نہ کہ علامتی سرگرمیوں کی۔

پاکستان کو واضح اعلان کرنا چاہیے کہ: جب تک بھارت پاکستان میں کرکٹ کھیلنے پر آمادہ نہیں ہوتا کشمیر میں مظالم بند نہیں کیے جاتے۔ دہشت گردی کے الزامات کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنا ترک نہیں کیا جاتا۔ تب تک بھارت کے ساتھ کرکٹ نہیں ہوگی، خواہ وہ نیوٹرل وینیو پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کرکٹ کی جنگ نہیں، قومی وقار کی جنگ ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے اس مؤقف کو ’’یو ٹرن‘‘ قرار دینا دراصل اس ذہنیت کی عکاسی ہے جس میں پاکستان کو کسی بھی حال میں دفاعی پوزیشن میں رکھا جائے۔ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلے تو بھارتی میڈیا اسے ’’انتہاپسند‘‘ اور ’’تنہائی کا شکار‘‘ قرار دیتا ہے، اور اگر پاکستان مشروط آمادگی ظاہر کرے تو یہی حلقے اسے کمزوری، پسپائی اور یوٹرن سے تعبیر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ پاکستان کے فیصلے کا نہیں، بلکہ بھارت کی اس ضد کا ہے کہ پاکستان کو وقار کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حق ہی نہ دیا جائے۔

پاکستان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارتی میڈیا یا بی سی سی آئی کی خوشنودی کبھی بھی اس کے حق میں نہیں جائے گی۔ کھیلنا ہو یا نہ کھیلنا دونوں صورتوں میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھیرایا جائے گا۔ ایسے میں واحد دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر ڈٹ جائے، وضاحتیں دینا بند کرے اور یہ واضح پیغام دے کہ قومی وقار کسی اسکور بورڈ سے بڑا ہوتا ہے۔ کرکٹ وقتی خوشی دے سکتی ہے، مگر اصولوں کی قربانی ریاستوں کو طویل المدت کمزوری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ وقت بھارت کے بیانیے کے پیچھے چلنے کا نہیں، بلکہ اپنے بیانیے کو واضح، دوٹوک اور غیر مبہم بنانے کا ہے۔ پاکستان اگر واقعی خودمختار ریاست ہے تو اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کھیل کو سفارتی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ برابری اور عزت کے اصول پر کھیلے گا۔ جب تک بھارت پاکستان میں کرکٹ کھیلنے، کشمیر میں مظالم روکنے اور دہشت گردی کے الزامات کو سیاسی ہتھیار بنانا ترک نہیں کرتا، تب تک کسی بھی سطح پر لچک دکھانا قومی وقار سے دستبرداری کے مترادف ہوگا۔ یہ کرکٹ کی ضد نہیں، ریاستی غیرت کا سوال ہے اور قومیں ایسے سوالوں پر سمجھوتا نہیں کرتیں۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت کے ساتھ کرکٹ ہے کہ پاکستان داخلی سلامتی کرکٹ کھیلنے پاکستان میں پاکستان کی پاکستان کو پاکستان کے کی جانب سے بنگلا دیش پاک بھارت کی علامت کہ بھارت کا نہیں ا ہے کہ

پڑھیں:

شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا، انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ شہباز شریف نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی