سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی کی صحت کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم نے بانی کی صحت کے ساتھ طبی دہشت گردی کی ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں عبدالغفورانجم ہے، ان کی سرپرستی پنجاب کی جعلی حکومت کر رہی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بانی کو اس حد تک ٹارچر کیا گیا کہ اہل خانہ تک کو نہ بتایا گیا، یہ جعلی حکومت کی رپورٹ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی 15 فیصد تک آئی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں پر رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جعلی حکومت کی سرپرستی میں جو ہوا اس سے ان کے عزائم سامنے آرہے ہیں، آج اگر آنکھ کے ساتھ یہ کیا تو یہ کل کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن اور 9 مئی ہمیں یاد ہے، مریدکے میں جو ہوا وہ یاد ہے، ان کے سامنے جان کی کوئی حیثیت نہیں یہ خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو چاہیے کہ کیسز سماعت کے لیے مقرر کرے، اگر عدالتیں انصاف نہیں کر سکتیں تو انہیں تالے لگنے چاہئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی ہوئی بلوچستان میں حالت برے ہیں، ملک کے حالات بدترین ہو رہے ہیں اور یہ سسٹم ایک بندے کو جھکانے میں لگا ہے، اگر دوست ممالک اپنا قرضہ واپس لیں تو آپ کا ڈالر چار سو روپے ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کا مقصد پاکستان کی بہتری نہیں بلکہ بانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، یہ بانی کی زندگی کا مسئلہ ہے اب عوام کو کوئی نہیں روک سکے گا، اگر خیبر پختونخوا کی عوام نکلتی ہے تو پھر وہاں کی پولیس ان کو نہیں روک سکتی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ عوام پُرامن انداز میں اپنا اختیار استعمال کرے گی، 16 فروری تک معائنہ ہونا چاہیے اور عبدالغفور انجم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وزیر اعلی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔