نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی پر تاجر برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سعید احمد: وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے متعلق نئی پالیسی پر تاجر برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
ایم ایم عالم روڈ انجمن تاجران کے چیئرمین شیخ محمد سلیم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پالیسی پر تفصیلی غور کیا گیا اور کلین اینڈ گرین انرجی منصوبے کے تناظر میں اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں تاجر نمائندوں نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی ایک اور غلط پالیسی قرار دیا۔ چیئرمین شیخ محمد سلیم کا کہنا تھا کہ شہریوں نے اپنے زیور اور اثاثے بیچ کر سستی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی اختیار کی، مگر اب نئی پالیسی سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علیمہ خانم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
انہوں نے کہا کہ اگر سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹریاں نصب کر لی جائیں تو حکومت سستے انرجی سورس سے محروم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں دستیاب بیٹریز کے ذریعے بجلی کی لاگت 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پڑتی ہے، جبکہ نئی پالیسی کے تحت حکومت سولر صارفین سے 8 روپے فی یونٹ میں بجلی خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
چیئرمین انجمن تاجران کے مطابق صارفین جس نرخ پر بجلی فروخت کریں گے، اس پر بھی 18 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اور جب وہی صارف حکومت سے بجلی خریدے گا تو اس پر بھی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو دوہرا بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق صارفین کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا اور حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
پاکستان کے دوسرے مقامی سیٹلائٹ EO-2 کی کامیاب لانچنگ
تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کیلئے سازگار پالیسی بنائی جائے تاکہ سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نئی پالیسی پالیسی پر
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔