نیپرا کی بلنگ پالیسی پر وزیراعظم نے نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
خان شہزاد: نیپرا کی بلنگ پالیسی پر وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ بزنس کمیونٹی نے نیٹ بلنگ پالیسی میں فوری ترامیم کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تاجر نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نیٹ بلنگ پالیسی میں کئی خامیاں موجود ہیں جن کے باعث صنعتکاروں اور کمرشل صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ منظور شدہ لوڈ کے مطابق بجلی پیدا کرنے والوں اور اس سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے صارفین کیلئے علیحدہ ٹیرف مقرر کیا جانا چاہیے تاکہ نظام میں توازن برقرار رہے۔
علیمہ خانم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
بزنس کمیونٹی کے مطابق موجودہ پالیسی منظور شدہ لوڈ کے مطابق بجلی بنانے والے صارفین کا بھی مکمل تحفظ نہیں کرتی، جس سے سرمایہ کاری کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔
تاجروں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ بلنگ فریم ورک کو کاروباری طبقے سے مشاورت کے بعد ازسرنو ترتیب دیا جائے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو نقصان نہ پہنچے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلنگ پالیسی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔