عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی: سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج کے باوجود عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد ہے، رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل سہولیات سے متعلق فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل یعنی اکتوبر 2025ء تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی، متعدد بار اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت سے آگاہ کیا، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں اچانک بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی، جس کے بعد پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنہ کے لیے بلایا گیا، ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج (بشمول ایک انجیکشن) کےباوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کتابیں فراہم کی جائیں، حفاظت اور سیکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے تک ہے، لیکن کمرے یا سیل کے اندر کوئی کیمرہ نہیں ہے، کمپاؤنڈ کے باہر اور اطراف کے تمام علاقے مسلسل نگرانی میں ہیں، مجموعی طور پر انہوں نے اپنی حفاظت اور سیکیورٹی کے بارے میں کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزمرہ معمولات کے مطابق بانی پی ٹی آئی صبح تقریباً 9:45 بجے ناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے سے تقریباً ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر محدود ورزش کے آلات استعمال کرتے ہیں جس میں ایک ایکسرسائز بائیک اور دو 9 کلو گرام وزنی ڈمبل شامل ہیں۔
دوپہر 1:15 بجے غسل کے بعد انہیں کمپاؤنڈ کے چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے، جہاں وہ بیٹھ سکتے ہیں یا چہل قدمی کر سکتے ہیں، دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے، شام 5:00 بجے انہیں دوبارہ مختصر چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے، تقریباً شام 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک وہ اپنے سیل میں رہتے ہیں۔
سیل بلاک اڈیالہ جیل کے اندر تقریباً 5 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے، احاطہ مخصوص اور اضافی حفاظتی اقدامات کے تحت بنایا گیا ہے، احاطے کی بیرونی دیواریں 12 فٹ بلند ہیں اور خاردار تار نصب ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق احاطے میں 5 وارڈرز اور ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ 24 گھنٹے تعینات ہیں، احاطے کے اندر تقریباً 12 ضرب 30 فٹ کا لان موجود ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی دھوپ، تازہ ہوا، ورزش اور چہل قدمی کے لیے جاتے ہیں، یہ علاقہ صاف ستھرا اور مناسب طور پر برقرار رکھا گیا ہے، سیل بلاک میں تقریباً 4 سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
سلمان صفدر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجھے سیل بلاک کے کچن میں لے جایا گیا، جس کا مرکزی دروازہ مقفل کیا جاسکتا ہے، سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے، زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ تھیں، اشیائے خورو نوش میں مصالحہ جات اور خشک میوہ جات شامل تھے، کچن کی صفائی کے حوالے سے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی، کچن کی صفائی کی بابت سپرنٹنڈنٹ جیل کو معائنے کے وقت آگاہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کا کھانا ان کے مطابق ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت منتخب کیا جاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات بانی کا خاندان برداشت کرتا ہے، دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا دو دن چاٹ یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے مزید بتایا کہ انہیں نجی کمپنی کا بوتل بند پانی دستیاب ہے، انہوں نے بیان کیا کہ وہ مکمل کھانا نہیں لیتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بےٓتایا گیا ہے کہ کچن سے آگے 16 ضرب 70 فٹ کا کھلا صحن ہے جس کا فرش سیمنٹ کا تھا، یہ حصہ کھلی فضا میں ہے مگر چار دیواری سے گھرا ہوا ہے، چار دیواری کی چھت پر لوہے کی سلاخیں اور جالی نصب ہے، بانی اس جگہ کو بھی چہل قدمی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ساتھ ہی 7 یکساں سائز کے سیلز دیکھے گئے جس پر 0 سے 6 تک نمبر درج تھے، ہر سیل کا سائز تقریباً 8 ضرب 10 فٹ تھا، بتایا گیا اس حصے تک رسائی محدود ہے، صرف درخواست گزار اور اس کا مقرر کردہ معاون ہی داخل ہوسکتے ہیں، بانی سیل نمبر 2 میں مقید ہیں، ان کو ملحقہ سیل میں غسل خانے اور ایکسر سائز بائیک رکھنے کی اجازت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مجھے سیل نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں عمران خان مقید ہے، میں نے سیل نمبر 2 کا معائنہ کیا، سیل کے داخلی دروازے پر لوہے کی سلاخوں کا ڈھانچہ موجود تھا، لوہے کی سلاخوں کے ڈھانچے پر ہوا سے بچاؤ کے لیے پلاسٹک شیٹ لگائی گئی تھی، سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا، ایک بلوور ہیٹر موجود ہے، سیل میں 2 میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی، ایک کرسی، ایک چھوٹا ریک موجود تھا، 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، وہاں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے 5 ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل بھی موجود تھے، بیڈ کے نیچے 5 جوڑی جوتے رکھے ہوئے تھے، فرش پر سرمئی رنگ کی قالین نما چٹائی موجود تھی۔
بانی پی ٹی آئی کا ذاتی سامان اور ٹوائلٹری آئٹمز بھی موجود تھے، سیل کے اندر جائے نماز، تسبیح موجود تھی، دو تولیے بھی تھے، تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، ساتھ 2 سیب، 2 ڈمبلز بھی تھے، ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ایئر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق سیل کے اندر تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ تھا، جس کو 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی، اس کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا، صفائی کے حوالے سے ٹوائلٹ کے باہر بہتری کی گنجائش دیکھی گئی، سیل میں تقریباً 2 ضرب 2 فٹ کے 2 روشندان چھت کے مخالف سمتوں میں موجود تھے، روشن دانوں سے کراس وینٹی لیشن ہوتی ہے، تاہم سیل کے اندر ٹوائلٹ ہونے کے باوجود کوئی ایگزاسٹ سسٹم نصب نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی دائیں آنکھ کی بینائی رپورٹ میں کہا گیا میں کہا گیا ہے کہ استعمال کرتے ہیں رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی سیل کے اندر موجود تھے سیل بلاک چہل قدمی کیا گیا سیل میں کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز