وفاقی وزیرِ بجلی اویس لغاری—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ بجلی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نئی ریگولیشن کا اثر زیادہ آمدنی والے لوگوں پر ہو گا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریگولیشنز سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں، نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹر نے 5 بار ریگولیشنز میں تبدیلی کی اور نیٹ میٹرنگ کے 6 سے 7 ہزار صارفین ہیں۔

سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ نئی سولر پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے، میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، اس وقت سولر کی مد میں جو بجلی کی پیداواری صلاحیت 20 سے 22 ہزار میگا واٹ ہے، اس میں سے 6 سے 7 ہزار سولر نیٹ میٹرنگ پر ہیں، ان 7 ہزار میں سے 22 سو میگاواٹ انڈسٹری نےلگایا ہوا ہے۔

موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہیں ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزير برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ.

..

انہوں نے کہا ہے کہ ریگولیشن کا اثر ان لوگوں پر پڑے گا جنہوں نے سولر میٹر لگائے ہوئے ہیں۔

اویس لغاری نے مزید کہا ہے کہ سولر ملک کے پوش علاقوں میں لگایا گیا ہے۔

ویزِ بجلی نے یہ بھی کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے ملک کی اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے اور نئی ریگولیشن کا اثر زیادہ آمدنی والے لوگوں پر پڑے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ریگولیشن کا اثر اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کہا ہے کہ لوگوں پر نے کہا

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ