سانحہ گُل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کا متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
جوڈیشل کمیشن نے سانحہ گل پلازہ کے بعد متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے گل پلازہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن 14 فروری کو گل پلازہ کا دورہ کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن حکومتی اداروں کو تحقیقات کے لیے طلب کرنے سے قبل پوری عمارت کا خود جائزہ لے گا۔
جوڈیشل کمیشن گل پلازہ کی موجودہ صورتحال کا معائنہ کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن جائے وقوعہ پر آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن، موجود راستے اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے گا۔
کمیشن گل پلازہ کا وزٹ کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرکے طلب کرے گا۔ فائر بریگیڈ، کے ایم سی، ریسکیو ادارے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کو طلب کیا جائیگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن گل پلازہ کا دورہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔