دورہ جات قرآن 25شعبان تا 25رمضان ہونگے ‘ جاوداں فہیم
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-16
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کے تحت شہر بھر میں 25 شعبان سے 25 رمضان المبارک تک 2 ہزار سے زاید مقامات پر دورۂ قرآن کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں قرآنِ مجید کو تفسیر کے ساتھ عام فہم انداز میں پڑھایا جائے گا۔ اس سال دورۂ قرآن کی مرکزی تھیم’’ہر دل میں قرآن‘‘رکھا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو قرآنِ مجید سے گہرا تعلق جوڑنے کی دعوت دینا ہے۔شہر بھر کی خواتین کسی بھی قریبی مقام پر دورۂ قرآن میں شرکت کر سکتی ہیں۔ یہ دروس رہائشی علاقوں، تعلیمی اداروں، کچی آبادیوں، دفاتر اور قرآن انسٹیٹیوٹ میں منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر طبقے کی خواتین تک قرآن کی تعلیم پہنچ سکے۔ناظمہ کراچی حلقہ خواتین جماعت اسلامی جاوداں فہیم نے کراچی کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ ان دورۂ قرآن میں بھرپور شرکت کریں، قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی کوشش کریں تاکہ فرد، خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری قرآن کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر مختصر دورانیے پر مشتمل قرآ ن کے شارٹ کورسز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ مصروف خواتین بھی کم وقت میں قرآن کی بنیادی تعلیم حاصل کر سکیں۔ خواتین مقررکردہ رابطہ نمبروں0335-2884443اور0370-2556103 پر رابطہ کر کے اپنی قریبی جگہ پر دورۂ قرآن یا شارٹ کورس میں شرکت کر سکتی ہیں۔جاوداں فہیم نے خواتین کے اس دینی و تربیتی سلسلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہے اور حلقہ خواتین کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ معاشرے کی اصلاح اور کردار سازی کے لیے قرآن فہمی ناگزیر ہے اور خواتین کی تربیت پورے خاندان اور معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔