عورت جنگ بھی لڑ سکتی ہے ،جہاز بھی اڑا سکتی ہے اور وزیر اعلیٰ بن کر مردوں کو ٹف ٹائم بھی دے سکتی ہے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں کھیلوں کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ بسنت کے موقع پر لاہور میں قوانین پر ریکارڈ عمل درآمد کیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تقریب سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ پنگ گیمز میں 3 ہزار کھلاڑی شرکت کریں گے۔ جبکہ حکومت کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مشکل حالات اور چیلنجز سے گھبرانا نہیں چاہیے۔مریم نواز نے پنجاب کی بیٹیوں کی جانب سے شاندار استقبال پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ اور خواتین ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک عورت ملک، صوبہ، انڈسٹری اور وزارت چلا سکتی ہےبلکہ ایک عورت وزیر اعلیٰ بن کر مردوں کو ٹف ٹائم بھی دے سکتی ہے۔ عورت جنگ بھی لڑ سکتی ہے اور جہاز بھی اڑا سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ سال 2026 کو نوجوانوں کا سال قرار دیا گیا ہے اور 2026 میں اسپورٹس سٹی کی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بسنت کے موقع پر لاہور میں قوانین پر ریکارڈ عملدرآمد کیا گیا جبکہ پنجاب کے عوام کو خوشیوں کے مواقع فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
جس شخص نے بطور وزیراعظم ایوان میں بیٹھنا تھا ، وہ قبضہ مافیا کے ہاتھوں ناحق جیل میں ایک ایک دن گزار رہا ہے،شیر افضل مروت
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مریم نواز وزیر اعلی سکتی ہے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔