وزیراعظم شہباز شریف کا انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق قومی پالیسی کی منظوری دے دی
وزیراعظم نے کہا کہ دین اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام
"انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نا صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں اور دین اسلام… pic.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 12, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔ عالمی منظرنامے پر حل طلب تنازعات، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی انتہا پسندانہ رویوں کی واضح مثال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی پیغامِ امن کمیٹی کی اپیل پر ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا گیا
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اور عملی اقدامات کرے تاکہ دنیا کو تشدد اور انتہاپسندی سے پاک بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انتہا پسندی پاکستان روک تھام شہباز شریف وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتہا پسندی پاکستان روک تھام شہباز شریف
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔