وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ترلائی مسجد آمد، خودکش حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ترلائی مسجد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے خودکش حملے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترلائی دھماکے کے بعد پروپیگنڈا: سیکیورٹی ذرائع نے حقائق واضح کر دیے
وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ میں خودکش حملہ انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ترلائی امام بارگاہ کا دورہ، خودکش حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات!
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ترلائی امام بارگاہ کا دورہ کیا اور خودکش حملے میں جاں بحق افراد کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔ انہوں نے واقعے کے متاثرہ خاندانوں کے گھروں پر جا کر ان سے… pic.
— PTI Khyber Pakhtunkhwa (@PTIKPOfficial) February 12, 2026
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت اس افسوسناک سانحے پر لواحقین کے غم میں شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد ہے اور ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
یاد رہے کہ یہ حملہ گزشتہ جمعے کو ہوا، جس میں کم از کم 32 افراد شہید اور 169 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جب مسجد میں نمازیوں کے اجتماع کے وقت خود کش دھماکا ہوا۔ یہ اسلام آباد میں گزشتہ دہائی کے دوران سب سے شدید حملوں میں سے ایک تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد اظہار یکجہتی پاکستان ترلائی مسجد دھماکہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد اظہار یکجہتی پاکستان ترلائی مسجد دھماکہ سہیل ا فریدی وزیراعلی خیبرپختونخوا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔