سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ کے والد برطرف؟ حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سخت سوالات کرنے والی ایک طالبہ کی ویڈیو گزشتہ دنوں وائرل ہوئی تھی۔
طالبہ کے سوال کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کررہا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس لڑکی کے والد کو سرکاری ملازمت سے نکال دیا ہے۔
انٹرنیٹ پر ایک مبینہ نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ملازم کو بغیر اطلاع غیر حاضری اور انکوائری کا جواب نہ دینے پر برطرف کردیا گیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 3 فروری کو وزیراعلیٰ اور طالبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد ایک خط سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا جس پر 4 فروری کی تاریخ درج تھی اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہوا ہے۔
اس دستاویز میں بشیر خان نامی کلرک کی برطرفی اور مراعات ختم کرنے کا ذکر تھا، جبکہ ایک صارف نے اسے اس تاثر کے ساتھ شیئر کیا کہ حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی سزا طالبہ کے والد کو دی گئی ہے۔ مذکورہ پوسٹ کو ہزاروں افراد دیکھ اور شیئر کرچکے ہیں۔
تاہم فیکٹ چیک کے دوران طالبہ فاطمہ خان نے واضح کیا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں اور وہ کبھی محکمہ تعلیم میں ملازم نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر اخوان خان خیبر پختونخوا کے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سے پہلے ہی ریٹائر ہوچکے ہیں۔
اسی طرح مبینہ نوٹیفکیشن پر درج چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے بھی اس خط کو من گھڑت قرار دیا، جبکہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نے بھی تصدیق کی کہ ایسا کوئی حکم نامہ ان کے دفتر سے جاری نہیں ہوا۔
فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے پر طالبہ کے والد کو ملازمت سے برخاست کیا گیا، سراسر غلط ہے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن کبھی جاری نہیں کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل خیبر پختونخوا طالبہ کے کے والد
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا