قومی اسمبلی: کورم کی نشاندہی نظرانداز، کئی بل پاس، افواج پاکستان کو خراج تحسین کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی نے منظور کر لی۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2021 سے فروری 2025ء تک پاک فوج کے مجموعی طور پر 3,141 افسران، جوان اور سپاہی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 170 افسر، 212 جے سی او اور 2,759 جوان شامل ہیں۔وزیر دفاع نے شہداء کے صوبوں کے لحاظ سے بھی اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ بلوچستان میں 103، گلگت بلتستان میں 161، خیبرپی کے میں 534 اور پنجاب میں 1,697 شہادتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک ضلع یا صوبے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی قربانی ہے۔ شہداء نے حلف کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جبکہ سیاستدان پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ فوجیوں کا تعلق جس علاقے سے بھی ہو، وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، جبکہ ہم اقتدار کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کو 4 اضلاع کی فوج قرار دینا سراسر غلط فہمی ہے، اور اگر ہم ذاتی سیاست کی خاطر خون سے لکھی گئی سرحدی لائنوں کو نظر انداز کریں تو ہمیں ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔ میں صوبائیت پر یقین نہیں رکھتا، لیکن شہداء کے اعداد و شمار کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کسی ایک صوبے یا ضلع کی قربانی نہیں بلکہ ملک کی جنگ ہے، اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن شہداء ہماری سرخ لکیر ہیں۔ کئی سالوں سے میں شہداء کے جنازے پڑھ رہا ہوں، اور ان کا تعلق کسی ایک صوبے سے نہیں بلکہ وہ اول و آخر پاکستانی ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرمملکت آصف علی زرداری کے خطاب پراظہارتشکرکی تحریک منظور کرلی۔ اجلاس میں اس حوالے سے وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے تحریک پیش کرے کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پرانہوں نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ دریں اثناء قومی اسمبلی میں حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں آبادی کے حساب سے اپنا حصہ چاہیے، ہمیں حقِ حکمرانی میں بھی اپنا حصہ چاہیے۔ جب آپ افغانستان کو پانچواں صوبہ کہیں گے تو آپ کے تعلقات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ملک کا باسی ہوں اور جمہوریت کے مخالفین کے خلاف بولوں گا۔ آپ نے ہمیں جمہوریت کی حمایت میں سزائیں دیں اور آپ نے پشتونوں کی اقتصادی خودکشی کرا دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پارلیمنٹ مارشل لگانے والوں کو جائز قرار دینے کے لیے ہے؟ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکر نے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا جب کہ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی مسلسل کورم پورا نہ ہونے کے حوالے آواز اٹھاتے رہے۔ سپیکر نے کہا کہ ایک بار کورم کی نشاندہی ہوچکی اور گنتی بھی ہو چکی ہے، کہاں لکھا ہے بار بار کورم کی نشاندہی کی جائے۔ جے یو آئی بھی قانون سازی کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایوان میں اس وقت 66 ارکان موجود ہیں، جبکہ کورم کے لیے 86 ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔قانون سازی کے دوران بغیر کورم صرف 8 منٹ میں 6 قوانین منظور کیے گئے، جن میں نیا پاکستان ہاؤسنگ و ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2026، وفاقی دار الحکومت اسلام آباد بزرگ شہری ترمیمی بل 2025، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025، بھنگ کنٹرول و انضباطی اتھارٹی ترمیمی بل، نام اور نشانات پاکستان غیر مجاز استعمال کی ممانعت بل 2026، اور قومی محافظ خانہ دستاویزات ترمیمی بل 2026 ء شامل ہیں۔ یہ بل وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے پیش کیے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اے پی پی میں کوئی مستقل بھرتی نہیں ہوئی ، پیشہ وارانہ ضروریات پوری کرنے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے عین مطابق عارضی بھرتیاں ہوئیں، یہ بھرتیاں منظور شدہ آسامیوں کے اندر رہتے ہوئے کی گئیں۔ وزارت اطلاعا ت و نشریات کی جانب سے معزز رکن کے سوال پر تحریری جواب دیدیا گیا ہے۔ اے پی پی بورڈ آف ڈائریکٹر کے پانچویں اجلاس میں تفویض کیے گئے اختیارات کے عین مطابق عارضی طور پر بھرتیاں ہوئیں جو پیشہ وارانہ امور چلانے کے لئے تھیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں، فنڈز کی غیر قانونی منتقلی اور 20 جعلی بھرتیوں کی نشاندہی پر اے پی پی انتظامیہ نے فوری اور شفاف کارروائی کو یقینی بنایا ہے۔ تمام معاملات کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف تفتیش اور ریکوری کا عمل جاری ہے۔ تقرریاں مکمل طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تفویض کردہ اختیارات اور رائج ضوابط کے مطابق کی گئی ہیں۔ ادارے نے مالی کفایت شعاری کو برقرار رکھتے ہوئے، قیمتی تکنیکی آلات کے تحفظ کے لیے سابقہ پراجیکٹ کے تربیت یافتہ عملے کو شفاف امتحان اور انٹرویو کے ذریعے کم تنخواہ اور سکیلز پر دوبارہ تعینات کیا ہے۔ آغا رفیع اللہ نے ضمنی سوال میں کہا کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے عام لوگوں کے مسائل حل نہیں ہونگے، ہمیں عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی سے رکن اختر مینگل کا 17 ماہ بعد استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔
اسلام آباد (آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ میرا خیال ہے پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا، اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔ ایک انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں، ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے۔ کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں۔ زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے۔ میاں صاحب کا 99، 93 میں سیاست پر جو اعتماد سامنے آیا وہ سب نے دیکھا، ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ملکی صورتحال میں فوج سویلین حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تو میرا خیال ہے یہ حکومت کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، یہ واضح ہونا چاہیے سیاسی اور ملٹری اداروں کے شانہ بشانہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہے اور ہم نے مل کر اسے جیتنا ہے۔ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے، تمام صوبے ایک پیج پر آ رہے ہیں۔ کم از کم وفاق اور کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں اس کے علاوہ دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشتگردی کا قومی اسمبلی کی نشاندہی کی جانب سے وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے نہیں ہو کے خلاف رہے ہیں کر رہی کے لیے
پڑھیں:
اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔
لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔
چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔