کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا چھاپہ، لینڈ ریکارڈ روم سیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے چھاپہ مار کر لینڈ ریکارڈ سے متعلق ریکارڈ کی جانچ شروع کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے ٹیم سب سے پہلے میونسپل کمشنر سمیرا حسین کے دفتر پہنچی، جس کے بعد کے ایم سی افسران کے ہمراہ دوسری منزل پر واقع لینڈ ریکارڈ کے ریکارڈ روم تک گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ڈی جی پارکس آفس سے تاریخی نوادرات چوری
ریکارڈ روم کو تالا لگا ہوا پایا گیا، جس پر ایف آئی اے افسران نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور تالا توڑنے کی تیاری شروع کردی۔
اینٹی کرپشن سرکل ایف آئی اے کی ٹیم ایس ایچ او اقبال کی سربراہی میں کارروائی کررہی ہے، ایس ایچ او اقبال کے مطابق لینڈ ریکارڈ میں گڑبڑ کی شکایات موصول ہونے پر ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں۔
شبہ ہے کہ ریکارڈ روم کی چابی ریٹائر افسر غلام غازی اپنے ساتھ لے گئے ہیں، غلام غازی 2 فروری کو ریٹائر ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد کسی نئے افسر کی تعیناتی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کے ایم سی کا 55 ارب روپے کا بجٹ برائے 26-2025 منظور، ترقیاتی منصوبوں کے لیے کتنی رقم مختص؟
چھاپے کے دوران ڈائریکٹر لینڈ اور عملہ مسلسل غلام غازی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم تاحال چابی حاصل نہیں کی جاسکی۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ تک رسائی حاصل کر کے مکمل جانچ کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اینٹی کرپشن ریکارڈ روم کراچی کے ایم سی لینڈ ریکارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن ریکارڈ روم کراچی کے ایم سی لینڈ ریکارڈ لینڈ ریکارڈ اینٹی کرپشن ریکارڈ روم ایف آئی اے کے ایم سی
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔