محنت کش خاتون صبرین پٹھان کا پراسرار قتل، حکومت و معاشرہ کٹہرے میں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
جامشورو کے پہاڑی علاقے محمد کھوسو سے موصول ہونے والی یہ خبر محض ایک قتل کی واردات نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بے حسی، پولیس کی روایتی غفلت اور محنت کش خواتین کے عدم تحفظ کی ایک لرزہ خیز داستان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ سے آئے مزدوروں کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں قتل، تقسیم کی بھیانک کوشش
سندھ کا ضلع جامشورو، جسے علم و دانش کا مرکز کہا جاتا ہے، آج ایک ایسی محنت کش ماں کے خون کا گواہ ہے جس کا جرم صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی جدوجہد تھا۔
لسبیلہ کی 26 سالہ صبرین عرف صبرو پٹھان، جو 3 بچوں کی ماں اور حاملہ تھیں اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ان کی تشدد زدہ لاش تھرمل پاور ہاؤس کے قریب سے برآمد ہوئی۔
پولیس کی روایتی ’سستی‘ یا مجرمانہ غفلت؟مقتولہ کے والد کے بیان نے ایک بار پھر پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جب صبرین 10 روز قبل لاپتا ہوئیں تو اے سیکشن پولیس کو فوری اطلاع دی گئی مگر وہی روایتی سرد مہری دکھائی گئی جو اکثر غریب خاندانوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ اگر پولیس بروقت متحرک ہوتی اور گمشدگی کی اطلاع کو کسی سنگین جرم کا پیش خیمہ سمجھتی تو شاید آج 3 بچے یتیم نہ ہوتے۔
مقتولہ کے شوہر بابر پٹھان کی مدعیت میں 5 نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ورثا کا دعویٰ ہے کہ مشکوک افراد کو گرفتار کر کے شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا جو اب روپوش ہیں۔ آئی جی سندھ اور وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: کچے میں سندھ پولیس کا آپریشن جاری، خطرناک ڈاکو نے سرینڈر کردیا
آئی جی سندھ جاوید عالم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی ہے کہ کیس کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تفتیش یقینی بنائی جائے۔ آئی جی نے متاثرہ خاندان کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
محنت کش خواتین: خطرات کے نرغے میںسندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سینکڑوں خواتین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوسوں میل پیدل سفر کرتی ہیں اور کپڑے و گھریلو سامان فروخت کرتی ہیں۔ یہ خواتین اکثر جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف سمجھی جاتی ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 26 سالہ صبرین عرف صبرو پٹھان کے نام سے ہوئی جو 3 بچوں کی ماں اور اس وقت حاملہ تھیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ اور لسبیلہ کے درمیان رہائش پذیر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور روزگار کی غرض سے جامشورو کے دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر کپڑے اور گھریلو اشیا فروخت کرتی تھیں تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔
سوشل میڈیا کا دباؤ اور انصاف کی امیدٹوئٹر، فیس بک اور ٹک ٹاک پر اٹھنے والی آوازوں نے اس واقعے کو دبنے نہیں دیا۔ عوامی دباؤ ہی وہ واحد ہتھیار ثابت ہوا جس نے آئی جی سندھ کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔
مزید پڑھیں: سندھ میں جمہوری دہشتگردی کو بند کیا جائے، ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا
صبرین کی تدفین لسبیلہ میں کر دی گئی جبکہ نامزد ملزمان کی روپوشی پولیس کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا یہ بیان کہ ’غفلت برداشت نہیں کی جائے گی‘ اسی وقت سچ ثابت ہوگا جب غفلت برتنے والے اہلکار اور ملوث افراد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جامشورو سندھ صبرین پٹھان کا قتل لسبیلہ محنت کش خاتون قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لسبیلہ محنت کش خاتون قتل پولیس کی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔