جامشورو کے پہاڑی علاقے محمد کھوسو سے موصول ہونے والی یہ خبر محض ایک قتل کی واردات نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بے حسی، پولیس کی روایتی غفلت اور محنت کش خواتین کے عدم تحفظ کی ایک لرزہ خیز داستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ سے آئے مزدوروں کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں قتل، تقسیم کی بھیانک کوشش

سندھ کا ضلع جامشورو، جسے علم و دانش کا مرکز کہا جاتا ہے، آج ایک ایسی محنت کش ماں کے خون کا گواہ ہے جس کا جرم صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی جدوجہد تھا۔

لسبیلہ کی 26 سالہ صبرین عرف صبرو پٹھان، جو 3 بچوں کی ماں اور حاملہ تھیں اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ان کی تشدد زدہ لاش تھرمل پاور ہاؤس کے قریب سے برآمد ہوئی۔

پولیس کی روایتی ’سستی‘ یا مجرمانہ غفلت؟

مقتولہ کے والد کے بیان نے ایک بار پھر پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جب صبرین 10 روز قبل لاپتا ہوئیں تو اے سیکشن پولیس کو فوری اطلاع دی گئی مگر وہی روایتی سرد مہری دکھائی گئی جو اکثر غریب خاندانوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ اگر پولیس بروقت متحرک ہوتی اور گمشدگی کی اطلاع کو کسی سنگین جرم کا پیش خیمہ سمجھتی تو شاید آج 3 بچے یتیم نہ ہوتے۔

مقتولہ کے شوہر بابر پٹھان کی مدعیت میں 5 نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ورثا کا دعویٰ ہے کہ مشکوک افراد کو گرفتار کر کے شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا جو اب روپوش ہیں۔ آئی جی سندھ اور وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: کچے میں سندھ پولیس کا آپریشن جاری، خطرناک ڈاکو نے سرینڈر کردیا

آئی جی سندھ جاوید عالم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی ہے کہ کیس کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تفتیش یقینی بنائی جائے۔ آئی جی نے متاثرہ خاندان کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

محنت کش خواتین: خطرات کے نرغے میں

سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سینکڑوں خواتین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوسوں میل پیدل سفر کرتی ہیں اور کپڑے و گھریلو سامان فروخت کرتی ہیں۔ یہ خواتین اکثر جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف سمجھی جاتی ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 26 سالہ صبرین عرف صبرو پٹھان کے نام سے ہوئی جو 3 بچوں کی ماں اور اس وقت حاملہ تھیں۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ اور لسبیلہ کے درمیان رہائش پذیر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور روزگار کی غرض سے جامشورو کے دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر کپڑے اور گھریلو اشیا فروخت کرتی تھیں تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔

سوشل میڈیا کا دباؤ اور انصاف کی امید

ٹوئٹر، فیس بک اور ٹک ٹاک پر اٹھنے والی آوازوں نے اس واقعے کو دبنے نہیں دیا۔ عوامی دباؤ ہی وہ واحد ہتھیار ثابت ہوا جس نے آئی جی سندھ کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ میں جمہوری دہشتگردی کو بند کیا جائے، ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا

صبرین کی تدفین لسبیلہ میں کر دی گئی جبکہ نامزد ملزمان کی روپوشی پولیس کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا یہ بیان کہ ’غفلت برداشت نہیں کی جائے گی‘ اسی وقت سچ ثابت ہوگا جب غفلت برتنے والے اہلکار اور ملوث افراد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جامشورو سندھ صبرین پٹھان کا قتل لسبیلہ محنت کش خاتون قتل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لسبیلہ محنت کش خاتون قتل پولیس کی

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود