ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر خ تختایف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے حالیہ سرکاری دورہ اسلام آباد کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے نے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔وہ ازبکستان اور پاکستان اسٹریٹجک شراکت داری کی راہ پر: جمہوریہ ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزیایوف کے دورہ اسلام آباد کے نتائج کے عنوان سے منعقدہ گول میز مذاکرے سے خطاب کر رہے تھے۔
سفیر نے کہا کہ یہ دورہ روایتی دوستی، باہمی احترام اور اعتماد کے ماحول میں منعقد ہوا، جو صدیوں سے دونوں ممالک کے عوام کو باہم جوڑے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران بین الحکومتی اور بین الادارہ جاتی معاہدوں کا ایک جامع پیکیج طے پایا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری و مالیات، کسٹمز تعاون، صنعتی اشتراک، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدے طویل المدتی اور منظم تعاون کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔اقتصادی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر تختایف نے کہا کہ بزنس فورم کے دوران 3.
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران علاقائی سلامتی اور افغانستان کی پائیدار ترقی بھی اہم موضوعات رہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کو عدم استحکام کا سبب بننے کے بجائے علاقائی تعاون اور رابطے کا پل بننا چاہیے، اور اس مقصد کے لیے اقتصادی انضمام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور انسانی امداد کو کلیدی ذرائع سمجھا جاتا ہے۔ثقافتی تعاون کے حوالے سے سفیر نے پاکستان میں ہفتہ ثقافتِ ازبکستان منعقد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس میں فنکار، مصور، ہنرمند، ڈیزائنرز اور فلم ساز شرکت کریں گے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے ایک پارک کے قیام کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور تجویز دی کہ وفاقی دارالحکومت کی ایک شاہراہ کا نام تاشقند رکھا جائے تاکہ پائیدار دوستی کی علامت قائم ہو سکے۔اسی تناظر میں انہوں نے لاہور میں بابری ورثے کے مطالعے کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی مرکز کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ مرکز مغلیہ دور کی تاریخ، تعمیراتی یادگاروں، ادبی اور روحانی ورثے پر تحقیق کے لیے ایک علمی و ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اور مشترکہ کانفرنسوں، نمائشوں اور تقریبات کے انعقاد کے ذریعے نوجوان نسل میں مشترکہ ورثے کے احترام کو فروغ دے گا۔سفیر نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا اور ازبکستانپاکستان ورکنگ گروپ برائے تعلیم کے قیام کا اعلان کیا، جو اعلی اور فنی تعلیم، تعلیمی تبادلوں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں کو فروغ دے گا۔اپنے اختتامی کلمات میں سفیر تختایف نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک وسطی اور جنوبی ایشیا کو ایک مشترکہ مواقع کے خطے کے طور پر ابھارنے میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی اعتماد اور سیاسی عزم ہی اس شراکت داری کی اصل بنیاد ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ آنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ آنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام فیضان مدینہ اسلام آباد میں فری آئی کیمپ کا انعقاد پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دیدی سال 2026 کا پہلا سی ڈی اے بورڈ اجلاس، متعدد منصوبوں کی منظوری عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دے دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ازبکستان کے سفیر نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ