بنگلہ دیش: 11 جماعتی اتحاد نے انتخابات کو مثالی قرار دیا، لینڈ سلائیڈ وکٹری کی امید
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد نے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے عمل کو ’مثالی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، حالانکہ کچھ الگ تھلگ تشدد اور غیر معمولی واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: عوام دھاندلی روکنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کریں، جماعت اسلامی
اتحاد کی جانب سے آج شام ڈھاکہ کے مغبازار میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسن المحبوب زبیر نے کہا کہ انتخابی ماحول پرامن، خوشگوار اور عوام کی بھرپور شرکت کے ساتھ تھا، اور اس طرح کے انتخابات بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں ایک مثال قائم کریں گے۔
https://twitter.
انہوں نے کہا کہ ہم بے صبری سے نتائج کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں اور اس عمل کی نگرانی کریں گے۔
انتخابی دن صبح 7:30 بجے شروع ہوا اور شام 4:30 بجے تک بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہا۔ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک ریفرنڈم بھی منعقد ہوا۔ انتخابی کمیشن کے مطابق ملک بھر کے 43,000 پولنگ مراکز میں سے 36,000 پر دوپہر 2 بجے تک تقریباً 48 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اگرچہ ووٹنگ عام طور پر پرامن رہی، کچھ الگ تھلگ واقعات میں 4 افراد ہلاک ہوئے۔
اتحاد میں جماعت اسلامی کے علاوہ نیشنل سٹیزن پارٹی، بنگلہ دیش خلافت مجلس، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، امر بنگلہ دیش پارٹی، بنگلہ دیش ڈویلپمنٹ پارٹی، بنگلہ دیش نظام اسلام پارٹی، جتیا گناتنٹرک پارٹی (جگپا)، بنگلہ دیش خلافت اَندولن اور بنگلہ دیش لیبر پارٹی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
11 جماعتی اتحاد بنگلہ دیش الیکشن جماعت اسلامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 11 جماعتی اتحاد بنگلہ دیش الیکشن جماعت اسلامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش جماعت اسلامی بنگلہ دیش
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔