بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی کا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اور بانی پی ٹی آئی کے دیگر اہلخانہ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا۔
اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ روزمرہ کے معمولات، ڈائٹ پلان، رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق تفصیلات نے تمام ابہام دور کر دیے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں پر رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں میسر ہیں اور انہیں کسی عام قیدی سے کئی گنا زیادہ مراعات حاصل ہیں۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج کے باوجود عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد ہے، رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل سہولیات سے متعلق فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل یعنی اکتوبر 2025ء تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق متعدد بار اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت سے آگاہ کیا، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی بینائی رپورٹ میں جیل میں گیا ہے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔