بانی پی ٹی آئی تین ماہ سےکہتے رہےکہ مجھے نظر نہیں آرہا، یہ دو ہفتے سے کیمروں کے ذریعےدیکھ رہے تھےکہ بانی کی آنکھ دیکھنا بند ہوگئی، علیمہ خان کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ کئی ہفتوں تک نہیں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ خراب ہو رہی ہے، بانی کا علاج شفاء میں ہوگا اور ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہوگا ۔
اسلام آباد پریس کانفرنس کے دوران علیمہ خان نے کہا کہ آج دل ہل گیا ہم نے ڈھائی سال جیل میں بیٹھےشخص کے ساتھ اچھا نہیں کیا ، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفورانجم کو تین ماہ سے بتایا جارہا تھا کہ آنکھ میں تکلیف ہے، بانی پی ٹی آئی تین ماہ سےکہتے رہےکہ مجھے نظر نہیں آرہا، اس جیل میں عبدالغفور ہی نہیں بلکہ کیمروں سے سب دیکھ رہے ہیں، یہ دو ہفتے سے دیکھ رہے تھےکہ بانی کی آنکھ دیکھنا بند ہوگئی، تین ماہ سے انہوں نے بتایا نہیں کہ ان کی آنکھ خراب ہوجائے گی۔علیمہ خان کہنا تھا کہ اس وقت انصاف مل رہا ہوتا تو بانی جیل میں نہ ہوتے، ان کے پاس دو دن ہیں بہتر ہے وہ بانی کا علاج کرالیں،عبدالغفورکے لیے بہتر ہےکہ وہ علاج کرائے اور فوری صحت پر کام ہونا چاہیے، یہ سرکاری باتیں ہورہی ہیں کہ بنی گالہ شفٹ کیا جا رہا ہے سب جھوٹ ہے،بانی نے واضح کیا کہ میں ان کے سامنے نہیں جھکوں گا۔
تحریک فساد کی ایک شرپسند خاتون کے لاہور سے متعلق ریمارکس قابل مذمت ہیں:عظمیٰ بخاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی تین ماہ سے علیمہ خان کی آنکھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔