وفاقی ٹیکس محتسب کا آئی سی سی آئی کا دورہ، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کیخلاف زیرو ٹالرنس کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وفاقی ٹیکس محتسب کا آئی سی سی آئی کا دورہ، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کیخلاف زیرو ٹالرنس کی یقین دہانی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)ظفر الحق حجازی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی مشکلات کا خاتمہ اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ان کے ادارے کی اولین ترجیحات ہیں۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)میں ایک پرجوش اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کرنے اور ٹیکس کے نظام میں بدانتظامی کو دور کرنے میں ایف ٹی او کے فعال کردار پر روشنی ڈالی۔
تجارت و صنعت کے نمائندوں، آئی سی سی آئی کے سابق صدور، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان اور سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری سمیت سینئر عہدیداروں سے بات کرتے ہوئے ایف ٹی او نے واضح کیا کہ ٹیکس دہندگان کی عزت و تکریم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان حکومتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ریاست ان کی شراکت سے چلتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس فائلرز کو ہراساں کرنے کے کلچر کو ختم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور انہوں نے کسی بھی قسم کی بد سلوکی، یا ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اعلان کیا۔ظفر الحق حجازی نے ہیڈ کوارٹر کی سطح پر تین ایڈوائزری کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کیا: انکم ٹیکس ایڈوائزری کمیٹی، سیلز اینڈ ایکسائز ٹیکس ایڈوائزری کمیٹی، اور کسٹمز ایڈوائزری کمیٹی۔ ان کمیٹیوں میں آئی سی سی آئی کے صدر، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، ٹیکس بار کے صدر سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹیاں ایف ٹی او کو خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مشاورت دیں گی۔ اسی طرح کی علاقائی کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی تاکہ مقامی سطح پر موثر رابطہ کاری اور سہولت کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ان کے آئی سی سی آئی کے دورے کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان اور ایف ٹی او کے درمیان خلیج کو ختم کرنا اور تاجر برادری کو یقین دلانا تھا کہ ادارہ انصاف کے لیے ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل براہ راست ان کے نوٹس میں لائیں، انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنی شکایات کے حل میں واضح فرق محسوس کریں گے۔ ایف ٹی او کے مشیر الماس علی جووینداہ نے کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ادارے کے سفیر کے طور پر کام کریں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایف ٹی او فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کے خلاف شکایت کرنے والوں کو مفت اور فوری ریلیف فراہم کرتا ہے انہوں نے بتایا کہ ایف ٹی او 60 دنوں کے اندر انصاف فراہم کر رہا ہے ۔ انہوں نے کمیونٹی کے وسیع تر مفاد کے لیے اس شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل بشمول رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے تسلیم کیا کہ ٹیکس وصولی ریاست کے کام کاج کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی اس قومی ذمہ داری نبھانے پر تاجر برادری کی تعریف کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس دہندگان میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے ایک منصفانہ موثر اور سادہ ٹیکس کا نظام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی او کاروبار سے متعلق شکایات کے حل میں موثر کردار ادا کر رہا ہے، جس سے ادارے پر کاروباری برادری کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔آئی سی سی آئی کے فاونڈر گروپ کے چیئرمین طارق صادق نے ظفر الحق حجازی کی تقرری کو کاروباری برادری کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا قرار دیا۔ آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین میاں محمد رمضان نے اجلاس کی نظامت کی۔سابق صدور میاں شوکت مسعود، شکیل منیر اور دیگر شرکا نے اپنے مسائل کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اس موقع پر سابق صدر خالد جاوید، محمد اعجاز عباسی، ایگزیکٹو ممبران عبدالرحمان صدیقی، ثنا اللہ خان، ذوالقرنین عباسی، اسحاق سیال، مرزا محمد علی، آئی سی سی آئی کے سینئر ممبر اسرار مشوانی بھی موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچی سن کالج لاہور کے طلبا و اساتذہ کیساتھ خصوص نشست پی ایس کیو سی اے اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایم او یو پر دستخط ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ آنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام فیضان مدینہ اسلام آباد میں فری آئی کیمپ کا انعقادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔