اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ملک کے وقار اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف آج پارلیمنٹ کے احاطے میں حزب اختلاف کے ارکان نے زبردست احتجاج کیا۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دروازہ پر جمع اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے بھارت بند کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت پر عوامی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حزب اختلاف کے ارکان بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کی ان شقوں کی مخالفت کر رہے ہیں جو عوام اور خاص طور پر کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور تجارتی معاہدے دباؤ میں نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لئے ہونے چاہئیں۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے آج لیبر یونینیں ہڑتال پر ہیں اور اپوزیشن ان کی حمایت کر رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت چاہے راہل گاندھی کے خلاف استحقاق نوٹس لائے یا مقدمہ درج کرے، اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ کسانوں اور مزدوروں کے حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ملک کے وقار اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاہدے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو اس کے اثرات زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ دریں اثنا ملک بھر میں کسان تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر بھارت بند کا اثر مختلف ریاستوں میں دیکھا گیا۔ کئی مقامات پر کسانوں اور مزدوروں نے ریلیاں نکالیں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے، نئے لیبر قوانین اور دیگر مجوزہ بلوں کے خلاف ہے جنہیں وہ عوام مخالف قرار دے رہی ہیں۔ حزب اختلاف نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ اس معاملے کو اٹھاتی رہے گی اور کسانوں و مزدوروں کے مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بھارت امریکہ تجارتی تجارتی معاہدے حزب اختلاف کے خلاف

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی