ٹرمپ کے ساتھ نیتن یاہو کی مشاورت سے تہران کو کوئی پریشانی نہیں، ایران
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق مصر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کے تحفظ کے دفتر کے سربراہ نے العربیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مذاکرات کے اس مرحلے پر سنجیدگی اور توازن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی نمائندے مجتبیٰ فردوسی پور نے کہا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی کی امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق مصر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کے تحفظ کے دفتر کے سربراہ مجتبی فردوسی پور نے العربیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مذاکرات کے اس مرحلے پر سنجیدگی اور توازن کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ایران نیتن یاہو کی ٹرمپ کے ساتھ مشاورت سے پریشان نہیں ہے، ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کی مقدار کم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن میزائل کے معاملے کی امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔