Islam Times:
2026-07-23@23:53:01 GMT

مذاکرات کا انجام؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

مذاکرات کا انجام؟

اسلام ٹائمز: امریکہ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ سخت اقدامات پر مجبور ہوگا۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر معاملہ جنگ میں تبدیل ہوا تو وہ امریکی اڈوں یا مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی نیوی اور دیگر افواج کی موجودگی اور ممکنہ مزید بیڑے بھیجے جانے کی خبریں عام ہیں جو تنازع کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے جن سے فوری جنگ کے امکانات زیادہ لگتے ہیں لیکن ہمارے خیال اس قسم کی تباہی کے فی الحال ٹل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
                   
امریکہ اور ایران جوہری امور پر مذاکرات کر رہے ہیں اور اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ دونوں فریق مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق رکھتے ہیں۔ ایران نے جوہری افزودگی (uranium enrichment) پر کچھ اصولی حدود ماننے کا عندیہ دیا ہے اور اپنے جوہری مراکز کی جانچ کی پیشکش کی ہے لیکن اس کی تفصیلات واضح نہیں۔ دونوں جانب لچک کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ممکنہ معاہدے کے لیے کچھ سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ ایران ان مذاکرات کو صرف جوہری مسئلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطّے میں نیابتی گروہوں کی سرگرمیوں پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔

امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی معاونت اور علاقے میں ایران کی مقاومتی گروہوں کی حمایت جیسے موضوعات بھی شامل ہوں۔ وہ “ریڈ لائنز” جو معاہدے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جوہری افزودگی روکنے کی شرط پر ایران سختی سے بضد ہے اور اسے اپنے اندرونی مفادات کا حصہ سمجھتا ہے۔ ایران مذاکرات میں امریکی فوجی موجودگی یا طاقت کے استعمال کو قبول نہیں کرتا۔ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی حمایت کو بھی مذاکرات کی شرائط میں شامل نہیں کرنا چاہتا۔ جب کہ امریکہ اور اس کے حلیف یہ چاہتے ہیں کہ ایران کم از کم جوہری افزودگی کی سطح اور ذخائر پر سخت حدود مانے اور اضافی نگرانی اور شفافیت قبول کرے۔

اسرائیل اور بعض یورپی ممالک، ایران کے میزائل پروگرام اور علاقے میں مقامتی تحریکوں سے اس کے تعلقات کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ممکنہ طور پر جوہری افزودگی اور اس کے ذخائر پر واضح حدود قبول کرے گا اور بین الاقوامی نگرانی میں اضافہ ہوگا۔ ایران پر معاشی پابندیاں کم ہو جائیں گی جس سے ایران کی معیشت کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے لیکن اگر مذاکرات شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو فوجی تصادم کی راہ کھل سکتی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ سخت اقدامات پر مجبور ہوگا۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر معاملہ جنگ میں تبدیل ہوا تو وہ امریکی اڈوں یا مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی نیوی اور دیگر افواج کی موجودگی اور ممکنہ مزید بیڑے بھیجے جانے کی خبریں عام ہیں جو تنازع کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے جن سے فوری جنگ کے امکانات زیادہ لگتے ہیں لیکن ہمارے خیال اس قسم کی تباہی کے فی الحال ٹل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے امکانات زیادہ میزائل پروگرام جوہری افزودگی ہے کہ اگر

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل