اسلام ٹائمز: امریکہ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ سخت اقدامات پر مجبور ہوگا۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر معاملہ جنگ میں تبدیل ہوا تو وہ امریکی اڈوں یا مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی نیوی اور دیگر افواج کی موجودگی اور ممکنہ مزید بیڑے بھیجے جانے کی خبریں عام ہیں جو تنازع کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے جن سے فوری جنگ کے امکانات زیادہ لگتے ہیں لیکن ہمارے خیال اس قسم کی تباہی کے فی الحال ٹل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
امریکہ اور ایران جوہری امور پر مذاکرات کر رہے ہیں اور اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ دونوں فریق مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق رکھتے ہیں۔ ایران نے جوہری افزودگی (uranium enrichment) پر کچھ اصولی حدود ماننے کا عندیہ دیا ہے اور اپنے جوہری مراکز کی جانچ کی پیشکش کی ہے لیکن اس کی تفصیلات واضح نہیں۔ دونوں جانب لچک کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ممکنہ معاہدے کے لیے کچھ سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ ایران ان مذاکرات کو صرف جوہری مسئلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطّے میں نیابتی گروہوں کی سرگرمیوں پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔
امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی معاونت اور علاقے میں ایران کی مقاومتی گروہوں کی حمایت جیسے موضوعات بھی شامل ہوں۔ وہ “ریڈ لائنز” جو معاہدے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جوہری افزودگی روکنے کی شرط پر ایران سختی سے بضد ہے اور اسے اپنے اندرونی مفادات کا حصہ سمجھتا ہے۔ ایران مذاکرات میں امریکی فوجی موجودگی یا طاقت کے استعمال کو قبول نہیں کرتا۔ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی حمایت کو بھی مذاکرات کی شرائط میں شامل نہیں کرنا چاہتا۔ جب کہ امریکہ اور اس کے حلیف یہ چاہتے ہیں کہ ایران کم از کم جوہری افزودگی کی سطح اور ذخائر پر سخت حدود مانے اور اضافی نگرانی اور شفافیت قبول کرے۔
اسرائیل اور بعض یورپی ممالک، ایران کے میزائل پروگرام اور علاقے میں مقامتی تحریکوں سے اس کے تعلقات کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ممکنہ طور پر جوہری افزودگی اور اس کے ذخائر پر واضح حدود قبول کرے گا اور بین الاقوامی نگرانی میں اضافہ ہوگا۔ ایران پر معاشی پابندیاں کم ہو جائیں گی جس سے ایران کی معیشت کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے لیکن اگر مذاکرات شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو فوجی تصادم کی راہ کھل سکتی ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ سخت اقدامات پر مجبور ہوگا۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر معاملہ جنگ میں تبدیل ہوا تو وہ امریکی اڈوں یا مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی نیوی اور دیگر افواج کی موجودگی اور ممکنہ مزید بیڑے بھیجے جانے کی خبریں عام ہیں جو تنازع کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے جن سے فوری جنگ کے امکانات زیادہ لگتے ہیں لیکن ہمارے خیال اس قسم کی تباہی کے فی الحال ٹل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے امکانات زیادہ میزائل پروگرام جوہری افزودگی ہے کہ اگر
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر