امریکی پابندیاں اور ایٹمی مذاکرات
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: 30 مارچ 2016ء کو اوباما انتظامیہ میں امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے کارنیگی انڈومنٹ میں "مستقبل کیلئے پابندیوں کی پیشرفت اور اسباق" کے موضوع پر ایک تقریر میں پابندیوں کے غیر موثر ہونے کے مسئلے پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس بات کا خطرہ ہے کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کرنا پڑے۔۔۔ اس خطرے کے بارے میں کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے "یہ خود پابندیوں کی تاثیر کو کمزور کرسکتا ہے۔" اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ وال اسٹریٹ جرنل نے ایران جیسے ممالک پر مغربی اور امریکی پابندیوں کے اثرات کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ نے غیر ارادی طور پر پابندیوں کی زد میں آنیوالے ممالک کا بلاک بنا دیا ہے اور یہ بلاک پابندیوں کو بے اثر کرنے کیلئے باہم ملکر کوئی بڑا معرکہ انجام دے سکتا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
عمان کی میزبانی اور ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ واشنگٹن-تہران مذاکرات کو ابھی 24 گھنٹے مکمل نہیں ہوئے تھے کہ امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام ان اطلاعات کے باوجود انجام دیا گیا ہے کہ مسقط میں ایران-امریکہ مذاکرات کے بعد فریقین نے مذاکرات کو اچھا آغاز اور اسے جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم ہفتے کی صبح ایرانی وقت کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت ایران پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے ایرانی تیل، تیل کی مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث "شیڈو فلیٹ" میں شامل 14 بحری جہازوں پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کی منتقلی سے متعلق 15 اداروں اور دو افراد پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک سرکاری بیان جاری کیا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایران پر اقتصادی دباؤ کو تیز کرنے کے امریکی منصوبے کا حصّہ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے اہم نکات کچھ اس طرح ہیں:
1۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیاں: ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت، امریکہ ایران سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تجارت کرنے والے ممالک کے سامان اور خدمات پر "بھاری ٹیرف" لگائے گا۔ اس طریقے سے ایران کے ساتھ تجارتی شراکت داروں کو امریکی مارکیٹ یا ایران کے ساتھ تجارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
2۔ فوجی کارروائیوں پر زور: ایگزیکٹو آرڈر میں "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" کا نام آیا ہے، ایک ایسا آپریشن جس کے بارے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
3۔ ایرانی عوام کے تحفظ کے بہانے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت: ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے ایک حصے میں، وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر ایران میں حالیہ ملکی پیش رفت پر ایک موقف اختیار کیا اور بدامنی کے خلاف ایران کی جنگ کو مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے طور پر بیان کیا۔ شرپسندوں کی کھل کر حمایت کا بھی اعلان کیا۔
4۔ نئے معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ: ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مذاکرات کے دوران پابندیوں کا مفہوم
امریکہ کی خارجہ پالیسی کے فریم ورک کے اندر دوسرے ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں ان ممالک کے خلاف دباؤ کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ امریکی صدور نے اس ٹول پر اتنا زیادہ زور دیا ہے کہ دنیا کے بہت سے دانشوروں نے امریکی پابندیوں کو ملک کا "معاشی ہتھیار" قرار دیا ہے۔ اسی مناسبت سے کل ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف اقتصادی ہتھیار استعمال کیے اور اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات، معاہدے کے لیے نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے کے لیے چاہتا ہے!درحقیقت ایگزیکٹو آرڈر کا نفاذ اور تہران کے خلاف حالیہ بھاری پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹرمپ فوجی تنازع کو روکنے کے لیے ایران سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کے راستے پر آنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن امریکا مذاکرات کے ساتھ ساتھ نئی پابندیاں لگا کر مذاکراتی فریق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورت میں کیا ہم یہ توقع کرسکتے ہیں کہ معاہدہ کرکے بھی ایران کے خلاف امریکی پابندیاں روک دی جائیں گی۔؟
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مذاکرات اور پابندیوں کا بیک وقت استعمال کوئی تضاد نہیں بلکہ اس نقطہ نظر کا حصہ ہے، جس کا زیادہ تعلق "زیادہ سے زیادہ دباؤ" سے ہے۔ بیک وقت دباؤ، پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے امریکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے فائدہ اٹھائے کی کوشش ہے۔ یہ نقطہ نظر ایرانی فریق کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے تسلسل کے حوالے سے عدم اعتماد کا باعث بنے گا اور مستقبل میں مذاکرات کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ایران کے خلاف ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دوسری صدارتی میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنی پہلی مدت کے "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کو مزید جارحانہ ٹولز (جیسے عالمی تعزیری ٹیرف اور براہ راست فوجی کارروائی کا خطرہ) کے ذریعے لاگو کر رہا ہے۔ لیکن کیا ٹرمپ انتظامیہ واقعی اس زیادہ سے زیادہ دباؤ سے ایران کے حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔؟
بہت سے ماہرین، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی، یہ بات سب مانتے ہیں کہ مستقل پابندیاں امریکہ کے لیے بہت زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہیں اور طویل مدت میں اس دباؤ کو جاری رکھنے سے ایران کی سے طرف سے مزید مزاحمت ہوگی۔ امریکا کی جانب سے 4 دہائیوں کی سخت پابندیوں کے بعد ایران میں پابندیوں کے خلاف مزاحمتی صورت حال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں بہت واضح اور تاریخی ہیں، لیکن گذشتہ چند دہائیوں کے دوران، ایران پابندیوں میں شدت کے باوجود اپنی ملکی معیشت کو خود کفالت کی اس سطح پر لانے میں کامیاب رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اسٹریٹجک درآمدات جیسے کہ پٹرول، گندم، اسٹیل اور لوہے کے کارخانوں کے لیے خام مال میں کامیاب رہا ہے۔
درحقیقت امریکی پابندیوں نے ایران پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ خود کفالت اور بیرون ملک سے آزادی کی طرف بڑھے۔ 30 مارچ 2016ء کو اوباما انتظامیہ میں امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے کارنیگی انڈومنٹ میں "مستقبل کے لیے پابندیوں کی پیشرفت اور اسباق" کے موضوع پر ایک تقریر میں پابندیوں کے غیر موثر ہونے کے مسئلے پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس بات کا خطرہ ہے کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کرنا پڑے۔۔۔ اس خطرے کے بارے میں کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے "یہ خود پابندیوں کی تاثیر کو کمزور کرسکتا ہے۔" اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ وال اسٹریٹ جرنل نے ایران جیسے ممالک پر مغربی اور امریکی پابندیوں کے اثرات کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ نے غیر ارادی طور پر پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک کا بلاک بنا دیا ہے اور یہ بلاک پابندیوں کو بے اثر کرنے کے لئے باہم مل کر کوئی بڑا معرکہ انجام دے سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زیادہ سے زیادہ دباؤ امریکی پابندیوں ایگزیکٹو آرڈر ایران کے خلاف پابندیوں کی کے بارے میں مذاکرات کے والے ممالک کہ امریکہ وائٹ ہاؤس اعلان کیا میں اپنی ایران پر نے ایران کے ساتھ دیا ہے رہا ہے اور اس تھا کہ کے لیے اس بات
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔