Islam Times:
2026-06-02@23:34:59 GMT

امریکی پابندیاں اور ایٹمی مذاکرات

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

امریکی پابندیاں اور ایٹمی مذاکرات

اسلام ٹائمز: 30 مارچ 2016ء کو اوباما انتظامیہ میں امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے کارنیگی انڈومنٹ میں "مستقبل کیلئے پابندیوں کی پیشرفت اور اسباق" کے موضوع پر ایک تقریر میں پابندیوں کے غیر موثر ہونے کے مسئلے پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس بات کا خطرہ ہے کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کرنا پڑے۔۔۔ اس خطرے کے بارے میں کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے "یہ خود پابندیوں کی تاثیر کو کمزور کرسکتا ہے۔" اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ وال اسٹریٹ جرنل نے ایران جیسے ممالک پر مغربی اور امریکی پابندیوں کے اثرات کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ نے غیر ارادی طور پر پابندیوں کی زد میں آنیوالے ممالک کا بلاک بنا دیا ہے اور یہ بلاک پابندیوں کو بے اثر کرنے کیلئے باہم ملکر کوئی بڑا معرکہ انجام دے سکتا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
 
عمان کی میزبانی اور ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ واشنگٹن-تہران مذاکرات کو ابھی 24 گھنٹے مکمل نہیں ہوئے تھے کہ امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام ان اطلاعات کے باوجود انجام دیا گیا ہے کہ مسقط میں ایران-امریکہ مذاکرات کے بعد فریقین نے مذاکرات کو اچھا آغاز اور اسے جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم ہفتے کی صبح ایرانی وقت کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت ایران پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے ایرانی تیل، تیل کی مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث  "شیڈو فلیٹ" میں شامل 14 بحری جہازوں پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کی منتقلی سے متعلق 15 اداروں اور دو افراد پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک سرکاری بیان جاری کیا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایران پر اقتصادی دباؤ کو تیز کرنے کے امریکی منصوبے کا حصّہ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے اہم نکات کچھ اس طرح ہیں:

1۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیاں: ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت، امریکہ ایران سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تجارت کرنے والے ممالک کے سامان اور خدمات پر "بھاری ٹیرف" لگائے گا۔ اس طریقے سے ایران کے ساتھ تجارتی شراکت داروں کو امریکی مارکیٹ یا ایران کے ساتھ تجارت میں سے کسی ایک کا  انتخاب کرنا ہوگا۔
2۔ فوجی کارروائیوں پر زور: ایگزیکٹو آرڈر میں "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" کا نام آیا ہے، ایک ایسا آپریشن جس کے بارے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
3۔ ایرانی عوام کے تحفظ کے بہانے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت: ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے ایک حصے میں، وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر ایران میں حالیہ ملکی پیش رفت پر ایک موقف اختیار کیا اور بدامنی کے خلاف ایران کی جنگ کو مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے طور پر بیان کیا۔ شرپسندوں کی کھل کر حمایت کا بھی اعلان کیا۔
4۔ نئے معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ: ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مذاکرات کے دوران پابندیوں کا مفہوم
امریکہ کی خارجہ پالیسی کے فریم ورک کے اندر دوسرے ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں ان ممالک کے خلاف دباؤ کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ امریکی صدور نے اس ٹول پر اتنا زیادہ زور دیا ہے کہ دنیا کے بہت سے دانشوروں نے امریکی پابندیوں کو ملک کا "معاشی ہتھیار" قرار دیا ہے۔ اسی مناسبت سے کل ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف اقتصادی ہتھیار استعمال کیے اور اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات، معاہدے کے لیے نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے کے لیے چاہتا ہے!درحقیقت ایگزیکٹو آرڈر کا نفاذ اور تہران کے خلاف حالیہ بھاری پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹرمپ فوجی تنازع کو روکنے کے لیے ایران سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کے راستے پر آنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن امریکا مذاکرات کے ساتھ ساتھ نئی پابندیاں لگا کر مذاکراتی فریق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورت میں کیا ہم یہ توقع کرسکتے ہیں کہ معاہدہ کرکے بھی ایران کے خلاف امریکی پابندیاں روک دی جائیں گی۔؟

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مذاکرات اور پابندیوں کا بیک وقت استعمال کوئی تضاد نہیں بلکہ اس نقطہ نظر کا حصہ ہے، جس کا  زیادہ تعلق "زیادہ سے زیادہ دباؤ" سے ہے۔ بیک وقت دباؤ، پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے امریکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے فائدہ اٹھائے کی کوشش ہے۔ یہ نقطہ نظر ایرانی فریق کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے تسلسل کے حوالے سے عدم اعتماد کا باعث بنے گا اور مستقبل میں مذاکرات کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ایران کے خلاف ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دوسری صدارتی میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنی پہلی مدت کے "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کو مزید جارحانہ ٹولز (جیسے عالمی تعزیری ٹیرف اور براہ راست فوجی کارروائی کا خطرہ) کے ذریعے لاگو کر رہا ہے۔ لیکن کیا ٹرمپ انتظامیہ واقعی اس زیادہ سے زیادہ دباؤ سے ایران کے حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔؟

بہت سے ماہرین، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی، یہ بات سب مانتے ہیں کہ مستقل پابندیاں امریکہ کے لیے بہت زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہیں اور طویل مدت میں اس دباؤ کو جاری رکھنے سے ایران کی سے طرف سے مزید مزاحمت ہوگی۔ امریکا کی جانب سے 4 دہائیوں کی سخت پابندیوں کے بعد ایران میں پابندیوں کے خلاف مزاحمتی صورت حال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں بہت واضح اور تاریخی ہیں، لیکن گذشتہ چند دہائیوں کے دوران، ایران پابندیوں میں شدت کے باوجود اپنی ملکی معیشت کو خود کفالت کی اس سطح پر لانے میں کامیاب رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اسٹریٹجک درآمدات جیسے کہ پٹرول، گندم، اسٹیل اور لوہے کے کارخانوں کے لیے خام مال میں کامیاب رہا ہے۔

درحقیقت امریکی پابندیوں نے ایران پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ خود کفالت اور بیرون ملک سے آزادی کی طرف بڑھے۔ 30 مارچ 2016ء کو اوباما انتظامیہ میں امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے کارنیگی انڈومنٹ میں "مستقبل کے لیے پابندیوں کی پیشرفت اور اسباق" کے موضوع پر ایک تقریر میں پابندیوں کے غیر موثر ہونے کے مسئلے پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ  "اس بات کا خطرہ ہے کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کرنا پڑے۔۔۔ اس خطرے کے بارے میں کہ پابندیوں کے زیادہ استعمال سے "یہ خود پابندیوں کی تاثیر کو کمزور کرسکتا ہے۔" اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ وال اسٹریٹ جرنل نے ایران جیسے ممالک پر مغربی اور امریکی پابندیوں کے اثرات کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ نے غیر ارادی طور پر پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک کا بلاک بنا دیا ہے اور یہ بلاک پابندیوں کو بے اثر کرنے کے لئے باہم مل کر کوئی بڑا معرکہ انجام دے سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زیادہ سے زیادہ دباؤ امریکی پابندیوں ایگزیکٹو آرڈر ایران کے خلاف پابندیوں کی کے بارے میں مذاکرات کے والے ممالک کہ امریکہ وائٹ ہاؤس اعلان کیا میں اپنی ایران پر نے ایران کے ساتھ دیا ہے رہا ہے اور اس تھا کہ کے لیے اس بات

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟