ڈیل نہ ہونے پر پچھلی بار ایران کیخلاف مڈنائٹ آپریشن کیا، اس بار دیکھیں گے مذاکرات کاکیا نتیجہ نکلتا ہے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی حتمی فیصلے پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیکھا جا رہا ہے آیا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ان کی ترجیح ہے، تاہم اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو پھر مذاکرات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے “مڈنائٹ ہیمر” بمباری کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اس بار ایران زیادہ ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔ ان کے مطابق ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور وہاں پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس آمد سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے باضابطہ طور پر امریکی صدر کے “بورڈ آف پیس” میں شمولیت اختیار کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔