Juraat:
2026-06-02@22:14:16 GMT

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔
عبدالرحیم

1980 کے عشرے میں تائیوان مار شل لاء کے تحت ایک آمریت تھا،اپوزیشن پارٹیوں پر پابندی تھی اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا۔فی کس آمدنی محض 4000 ڈالر تھی۔اب دنیا یکسر بدل گئی ہے۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی طرف سے شائع شدہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق تائیوان آج پاکستان سے زیادہ جمہوری ہے،اسی طرح فریڈم ہائوس تائیوان کو پاکستان سے زیادہ قومی یا شہری حقوق سے بہر ہ یاب سمجھتاہے۔اس کے علاوہ تائیوان زیادہ ٹیکنالوجیکل عجوبہ ہے۔ریستورانوں میں روبوٹ مدد کرتے ہیں اور اس کے شہریوں کی فی کس آمدنی جاپانیوں سے زیادہ ہے۔ چونکہ تائیوان دنیا کے 90 فی صد سے زائدسب سے زیادہ ترقی یافتہ کمپیوٹرچپس پیدا کرتا ہے،یہ عالمی معیشت میں سب سے زیادہ نا گریز واحد مرکز ہے۔
اسی طرح 1989میں ویتنام کی فی کس آمدنی تقریباً100 ڈالر تھی۔ہیو شہر کے ایک بہترین ہوٹل میں چوہے کمرے کی چھت سے بارش کی طرح گرتے تھے۔لیکن گزشتہ ماہ ویت نام کے شیرٹن ہوٹل میں چوہوں کی برسات نہیں تھی۔اب ویتنام کی فی کس آمدنی تقریباً 5000 ڈالر ہے۔ شہر کی اسٹریٹس میں بلند و بالا عمارتوں کی قطاریں ہیں جو اقتصادی ترقی کی 8 فی صدشرح کی عکاس ہے اور گزشتہ سال اسٹاک میں ڈالرز کے لحاظ سے37 فی صد اضافہ ہوا جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ہوچی منہ میں لوگوں کی شرح زندگی77سال ہے جو پاکستان کے کئی شہروں سے زیادہ ہے۔اس طرح ایشیا میں زیادہ تیزی سے تبدیلی آئی،بعض ایشیائی ممالک نے ایک عشرے سے کم عرصے میں حیران کن ترقی کی۔تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کاکہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں جن میں چین ،بھارت ،انڈونیشیا ، ویتنام شامل ہیں،نے باقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ عالمی اقتصای ترقی میں حصہ ادا کیااور 2026 میں بھی ایسا کریں گی۔
انسا نی وسائل میں سرمایہ کاری اور دانشمندانہ اقتصادی پالیسیاں
ایشیا بھاری بھر کم شے نہیں ہے لیکن جو فوائد پہلے پہل جاپان اور چھوٹی "ٹائیگر” معیشتو ں(ہانگ کانگ،جنوبی کوریا،تائیوان اور سنگاپور) میں نظر آئے، وہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا اور حال ہی میں بنگلہ دیش اور بھارت تک پھیل گئے۔ایک عامل انسا نی وسائل میں سرمایہ کاری ہے اور ساتھ ہی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیاں ہیں۔چونکہ حالیہ برسو ں میںپاکستان میںجمہوریت اور معاشرہ کو مشکل حالات کا سامنا ہے ۔وہ آمرانہ گرفت میں ہے اور عدم مساوات اور بے اطمینانی کا شکار ہے۔پاکستان جنوب مشرقی ایشیا کی بعض کامیابیوں سے اسباق حاصل کر سکتا ہے۔
تعلیم کی یکسر تبدیلی کی قوت
پاکستان میںجس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،وہ تعلیم کی یکسر تبدیلی کی قوت ہے۔یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ یہ معاشرے پاکستان کے مقابلے میں تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔یہ جذبہ مشرقی ایشیا کی کنفیوشش پٹی میں روایت کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔آج بھی چین کے دیہات میں مقامی آدمی کیلئے قدیم یاد گار دیکھی جا سکتی ہے جس نے صدیوں قبل شاہی امتحانات میں ٹاپ آنرز کے ساتھ ڈگری حاصل کی۔کیا کبھی کسی پاکتانی دیہات میں آپ نے مقامی پی ایچ ڈی کی یاد منائی گئی دیکھی ہے؟ مشرقی اشیا کے بعض اسکولوں میں پْر جوش لڑکے اور لڑکیاں گریجویٹ ہونے پراس تقریب میں الوداعی خطاب کرتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا فخریہ ذکر کرتے ہیں۔ان اقدار سے بہت سے طالب علم غیر معمولی طور پر سخت محنت کرتے ہیں۔
ہوچی من سٹی میں ایک لڑکی ٹرانس ہا ہوانگ چائو کے پاس کالج کیلئے رقم نہیں تھی۔ لیکن وہ ڈگری حاصل کرنے پر مْصر تھی۔اس لئے اس نے فل ٹائم کام اور فل ٹائم اسٹڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔یونیورسٹی میں تمام دن اسٹدی کرنے کے بعد وہ پوری رات ایک کافی شاپ میں ہفتے میں سات دن کام کرتی۔ وہ کب سوتی تھی؟ اس نے بتایا کہ صبح تین اور پانچ بجے کے کے دوران جب زیادہ گاہک نہیں ہوتے تھے، اسے کافی شاپ میں سونے کا موقع ملتا۔وہ ویک اینڈز پر اپنی نیند پوری کرتی۔اس کے پاس کھا نے کیلئے کافی پیسے نہیں ہوتے تھے اور وہ اکثر بھوکی سوتی تھی لیکن اس کاحوصلہ رنگ لا یا اور اسے اپنی سائنس ریسرچ کے تعلیمی اعتراف ہونے لگے جس میں کووڈ پر اپنے کام کا ایک انعام اوررحم کے نچلے حصے میں ورم کی تفتیش کا دوسراانعام شامل ہے۔ انعامات میں نقد ادائیگیاں شامل تھیں جس کے نتیجہ میں وہ زیاد کھانے ے قابل ہوئی۔
تعلیم کیلئے یہ تعظیم وجہ ہے کہ سنگا پور کے اسکول دنیا میں بہترین ہو سکتے ہیں۔ان اسکولوں میں جنوبی کوریا،تائیوان ،ہانگ کانگ اور جاپان شامل ہیں۔پاکستانی اپنے بچوں کی تعلیم میں شوق سے سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن وہ دوسرے بچوں کی تعلیم کیلئے ادائیگی میں کم جذبہ رکھتے ہیں۔اس کے برعکس تائیوان میں آئین پابند کرتا ہے کہ تعلیم ،کلچر اور سائنس کیلئے قومی بجٹ کا کم ازکم 15فی صد وقف ہونا چاہئے۔ ایک قانون پابند کرتا ہے کہ تمام سطحوں پر حکومت کیلئے مجموعی خالص بجٹ محاصل کا کم از کم22.

5 فی صد تعلیم میں جانا چاہئے۔پاکستان میں تعلیم پر وفاقی بجٹ کاحصہ نہایت کم ہے۔
کنفوشش اثرات رکھنے والے ممالک میں تعلیم کااحترم اتنا گہرا ہے کہ یہ ان کے نوجوان ہارمونز پر بھی غالب ہے۔ہوچی من سٹی کی یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی کی 20سالہ طالبہ فا نتھی مائی ڈوین کا کہنا ہے کہ ڈیٹ پر جانا یا بوائے فرینڈ رکھنا ضروری نہیں ہے۔میری ترجیح اسکول کا کام ہے جو مجھے مصروف رکھتا ہے۔ڈوئین نے مٹی کی مقدار کی پیمائش کرنے کی ڈیوائس تیار کی تاکہ کسان سمجھ سکیں کہ کس طرح کھاد کے اضافہ سے فصلیں بہتر ہو سکتی ہیں۔ڈوئین جو دیہی علاقے میں پلی بڑھی، وہ غیر منافع بخش تنظیمU-Go سے فائدہ اٹھاتی ہے جو مائیکروسافٹ کے ایک سابق ایگزیٹو جان وڈ نے قائم کی جو طالب علم کو تقریباً800 کے وظائف فراہم کرتی ہے تاکہ ایشیا اور افریقہ میں کم آمدنی والی ذہین خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں۔
کیا پاکستانی اپنے ملک میں اس قسم کا تعلیمی کلچر قائم کر سکتے ہیں؟

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مشرقی ایشیا فی کس آمدنی تعلیم کی سے زیادہ کرتے ہیں

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان