قابض اسرائیلی ریجیم سے مسجد الاقصی میں داخلے پر پابندی عائد کرنیکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
قابض اسرائیلی ریجیم کی سکیورٹی سروسز نے صیہونی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران فوجی اقدامات میں اضافہ کرتے ہوئے مسجد اقصی میں نمازوں پر پابندی عائد کر دیں اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیلی ریجیم کے سرکاری چینل 15 نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی جارحانہ کارروائیاں، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی "احتیاط کے ساتھ" جاری رہیں گی۔ اسرائیلی چینل نے ذرائع سے نقل کرتے ہوئے یہ اطلاع بھی دی کہ اس دوران صرف جمعے کے روز ہی مغربی کنارے سے 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد الاقصی میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جبکہ نمازیوں پر عمر کے اعتبار سے بھی پابندیاں لاگو ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدوں کے دوران رہا کئے گئے فلسطینی قیدیوں کا مسجد الاقصی میں داخلہ بھی مکمل طور پر ممنوع ہو گا۔ اسرائیلی سکیورٹی سروسز نے صیہونی حکام سے مطالبہ کیا کہ مغربی کنارے میں "آئرن فِسٹ" نامی سکیورٹی حکمت عملی کو فعال کیا جائے اور گذشتہ سالوں کے برعکس، امسال رمضان المبارک کے دوران گرفتاریوں اور گھروں کو مسماری جیسی کارروائیاں کو "بند نہ کیا جائے"! صیہونی سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر دباؤ بہت زیادہ بڑھتا ہے تو اسرائیلی ریجیم کو "صورتحال کے بے قابو ہو جانے" کی توقع بھی رکھنی چاہیئے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی ریجیم
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔