آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں ورنہ کارکنان نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دینگے، پی ٹی آئی قیادت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنماوں نے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ورکر بغیر اجازت نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے لہذا آ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا (کے پی)سہیل آفریدی، رہنما سلمان اکرم راجا، جنید اکبر، شفیع جان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا، سب سے پہلے ہمارے لیے عمران خان کی صحت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک رکن قومی اسمبلی عادل بزائی کو لیفوما ہوگیا ہے، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کا علاج باہر ہو گا، میں آج ایک دو وفاقی وزرا سے بھی ملا ہوں لیکن ان کے ہاتھ کھڑے ہیں، آپ سب لوگوں کو پتا ہے کہ اس سب کے پیچھے کون ہے؟،۔ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں ننگا کریں، ہمارے خلاف ایف آئی ار درج کرائیں، اس سے ہمارے دل میں آپ کے لیے نفرت بڑھے گی، ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں، ہمیں آپ ملی نغموں کے پیچھے لگائیں گے۔
جنید اکبر نے کہا کہ انٹلیجنس اداروں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس کو اٹھا، اس کو لگا، آپ کو کام ہمیں تحفظ فراہم کرنا ہے، سب کو پتا ہے چور لٹیروں کو ہم پر کس نے مسلط کیا ہے، میں پرو اسٹبلشمنٹ ہوں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تک میں آپ سے محبت نہیں کر سکتا جب تک آپ اپنا رویہ تبدیل نہ کریں، میں آواز اٹھاتا ہوں تو اٹھایا جاتا ہوں، ہم گالیاں کھاتے ہیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے ورکر اداروں سے لڑیں، جس دن ہم اپنے ورکر کے آگے سے ہٹ گئے اس دن یہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں، جس دن اجازت کے بغیر یہ ورکر نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے کہا کہ آ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں، عمران خان بڑے دل کا مالک ہے وہ سب کچھ معاف کر دے گا، ملک میں امن تب ہو گا جب ایسا لیڈر ہوگا جس کے پیچھے لوگ کھڑے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں میرا وزیراعظم اسمبلی نہیں آتا، وزیر داخلہ اسمبلی نہیں آتا کیونکہ انہیں پتا ہے کہ آپ منتخب ہو کر نہیں آئے، ہماری یوتھ آپ سے بہت دور ہو گئی ہے، یہ آپ کو تب قبول کریں گے جب آپ عمران خان کو قبول کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ عمران خان کو نہیں توڑ سکتے، توڑنا ہوتا تو تین سال میں توڑ لیتے، ہمیں مضبوط پاکستان چاہیے، میں ہر اس بندے کو دہشت گرد سمجھتا ہوں جو کسی بندے کی جان لے۔انہوں نے کہا کہ جس نے خان کو ستایا ہو ذلیل ہو گا، آ سب بھول کر آگے بڑھیں، ان چور لٹیروں کو آپ نے ہم پر مسلط کیا ہے، آپ اس کے ذمہ دار ہیں، میرے خلاف مزید ایف آئی آر ہو سکتی ہے، میرے وارنٹ نکل سکتے ہیں۔جنید اکبر نے کہا کہ اگر عمران خان اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے، ہم اپنے ورکرز سے تھک گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ کال کیوں نہیں دیتے، آپ مجھے ویڈیو سے ڈراتے ہیں، بیوی بچوں سے ڈراتے ہیں، جس کے بیوی بچے نہیں ہوں گے اسے کیسے ڈرائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مطالعہ پاکستان میں غلط لکھا ہے اسے تبدیل کریں، آپ سمجھتے ہیں ضیاالحق اور مشرف غلط تھے تو انہیں غلط ڈکلئیر کریں، آپ پاکستان کے ماما چاچا نہ بنیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی دہشت گردی کو حل کر سکتا ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ میں ساری عمر یہاں رہوں گا، ریٹائر ہو کر باہر نہیں جانا، عمران خان کو تکلیف دیں گے تو کوئی آپ سے محبت نہیں کرے گا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی گئی، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قدر عمران خان کی صحت خراب ہو گئی ہے لیکن پہلے کسی نے دھیان نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ذاتی ڈاکٹر اور فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر اسپتال لے جایا گیا اور انجکشن لگایا گیا، آج جو خطرناک رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں کہہ رہے ہیں کہ 15 فیصد دکھائی دے رہا ہے، یہ ایک کرمنل ایکٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں جیل مینول کی خلاف ورزی بھی ہے، نواز شریف کی جب صحت کا معاملہ آیا تھا تو عدلیہ اور صحافیوں نے مل کر آواز اٹھائی تھی، عمران خان نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور انہیں ملک سے جانے دیا لیکن اس وقت وہ آواز ہمیں نظر نہیں آرہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا لیڈر اس وقت تکلیف میں ہے، ہمارے پاس آپشنز ہیں جس پر غور کیا جا رہا ہے، آج ہماری پارٹی کی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی اور تحریک تحفظ آیین پاکستان کی قیادت کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پر ہم لائحہ عمل بنائیں گے، 900 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں عمران خان کی طرف سے صحت کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی، آج اگر ہم آپ کو مدعو کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ بات سیریس ہے اور اس حوالے سے ہمیں بھی سنجیدہ اقدامات کرنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کے لیے آواز اٹھانی ہے، اس ناجائز حکومت کے چنگل سے انہیں آزاد کروانا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ جو رپورٹ اچکزئی صاحب کو دیکھائی گئی وہ غلط تھی، یہ لوگ جھوٹے ہیں ہم ان کی بات پر آئندہ یقین نہیں کریں گے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان نے سب کو سہا ہے اور کسی سے کوئی شکایت نہیں کی، عمران خان کی آنکھ کی تکلیف تین ماہ سے شدت اختیار کر گئی ہے، جب ان کی آنکھ کی بینائی مکمل خراب ہو گئی تو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک بڑا سیاسی لیڈر جسے آپ نے جیل میں رکھا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ ایک سال سے بیٹھا کے اور مقدمات سننے سے قاصر ہے، جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو گیا ہے، ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم نے اس ملک میں ایسے ہی سسکنا ہے یا کھڑے ہو کر اپنی آواز بلند کرنی ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائے گا، جن معالجین پر ہمیں بھروسہ ہے ان کو علاج کرنے دیا جانا چاہیے، ان کو معلوم تھا کہ خان صاحب کی ایک آنکھ کی بینائی خراب ہو چکی ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہر صوبے کے عوام کو آگے بڑھنا ہے، پورے پاکستان کو اس پر رد عمل دینا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کا سیکٹر ڈی 12کی پراپرٹیز کے حوالے سے مکمل ڈیجیٹائزیشن نظام کا نفاذ سی ڈی اے کا سیکٹر ڈی 12کی پراپرٹیز کے حوالے سے مکمل ڈیجیٹائزیشن نظام کا نفاذ وفاقی ٹیکس محتسب کا آئی سی سی آئی کا دورہ، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کیخلاف زیرو ٹالرنس کی یقین دہانی حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچی سن کالج لاہور کے طلبا و اساتذہ کیساتھ خصوص نشست پی ایس کیو سی اے اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایم او یو پر دستخط ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی عمران خان کو سہیل آفریدی کے حوالے سے جنید اکبر ہیں کہ کی صحت

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف