14 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا ہوگا، کراچی کو اس کا حق دلائیں گے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کے حقوق، شہری مسائل کے حل اور بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبے پر 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے بھرپور دھرنا دیا جائے گا، جبکہ قابض میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی لائی جائے گی، ظلم اور قبضے کے نظام کو مزید نہیں چلنے دیا جائے گا اور کراچی کے عوام کو جینے کا حق دلایا جائے گا۔
ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائیں کیونکہ جماعت اسلامی پرامن، جمہوری اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بجلی اور سولر پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ ختم کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے جبکہ آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً دو ہزار ارب روپے کی ادائیگی اور صارفین پر فکس چارجز کا نفاذ غریبوں پر ظلم ہے، اگر یہ فیصلے واپس نہ لیے گئے تو رمضان المبارک کے بعد ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو جوڑنے والی جماعت ہے اور وہ تمام قومیتوں کو ساتھ لے کر پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہوئے، وہ قوم سے خطاب کر کے غزہ سے متعلق پالیسی اور فوج بھیجنے کے معاملے پر واضح مؤقف دیں، خیبر پختونخوا خصوصاً وادی تیراہ میں شدید سردی اور نقل مکانی کے باعث عوام مشکلات میں ہیں، حکومت متاثرین کو فوری گھروں میں واپس بسائے اور معاوضہ فراہم کرے۔
حافظ نعیم الرحمن نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکمرانی نے کراچی کو نظرانداز کیا، شہر کے وسائل پر قبضہ رکھا اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا، کراچی ملک کا معاشی مرکز ہونے کے باوجود تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، شہر کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے مگر مردم شماری میں دو کروڑ ظاہر کی گئی، گزشتہ پانچ برس میں ایک لاکھ عمارتیں تعمیر ہوئیں جن میں سے 85 ہزار غیر قانونی ہیں جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے صوبائی حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، عالمی معیار کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد پر ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے مگر کراچی میں صرف 28 فائر اسٹیشن ہیں جن میں سے محض 21 جزوی طور پر فعال ہیں۔
بین الاقوامی امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض عالمی اقدامات اور فورمز میں پاکستان کی شرکت قومی پالیسی اور عوامی جذبات کے خلاف ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کو اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، غزہ میں اسرائیلی اور امریکی کارروائیاں انسانی تاریخ کی بدترین درندگی ہیں اور عالمی قوتیں امن کی دعویدار ہونے کے باوجود جنگ و تباہی پھیلا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض فوجی آپریشنز مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ پائیدار امن کے لیے سیاسی اور سماجی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔