عمران خان کی خراب صحت کے ذمہ دار سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا، سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور اس جرم کے ذمہ دار سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم ہیں، جن کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی ایک آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی اور وہ صرف روشنی دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان ڈاکٹروں سے کروایا جائے جن پر بانی اور ان کے اہل خانہ کو اعتماد ہو۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ وقاص اکرم کا عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پر شدید ردعمل، جیل حکام پر سنگین الزامات
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شکایت کی تھی کہ آنکھ میں تکلیف ہے مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے محض سادہ ڈراپ دیا گیا، جس سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق یہ سنگین غفلت اور جرم ہے جس کا حساب عبدالغفور انجم سے لیا جائے گا۔
’ہفتوں تک اہل خانہ کو بتایا ہی نہیں گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ خراب ہو رہی ہے‘
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ کئی ہفتوں تک اہل خانہ کو بتایا ہی نہیں گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج شفاء اسپتال میں اور ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہوگا۔
علیمہ خان نے کہا کہ آج دل ہل گیا ہے کہ ہم نے ڈھائی سال جیل میں بیٹھے ایک شخص کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کو تین ماہ سے آگاہ کیا جا رہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں تکلیف ہے، بانی پی ٹی آئی مسلسل کہتے رہے کہ انہیں نظر نہیں آ رہا، مگر اس کے باوجود بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے عمران خان کو بنی گالہ منتقلی کا حکم دیا تو حکومت اسے تسلیم کرے گی، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ اس جیل میں صرف عبدالغفور انجم ہی نہیں بلکہ کیمروں کے ذریعے سب کچھ دیکھا جا رہا تھا، دو ہفتے سے واضح تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ نے دیکھنا بند کر دیا ہے، مگر پھر بھی کسی نے اہل خانہ کو آگاہ نہیں کیا۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ اگر اس وقت انصاف مل رہا ہوتا تو بانی پی ٹی آئی جیل میں نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کے پاس دو دن ہیں، بہتر ہے کہ وہ فوری طور پر بانی پی ٹی آئی کا علاج کرائیں۔ انہوں نے بنی گالہ منتقلی کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی بینائی کی اصل پوزیشن کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹر کریں گے، طلال چوہدریوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی کی اصل پوزیشن کا فیصلہ وکیل نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹر کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ماہر ڈاکٹر کو بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی اب ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے اور 8 فروری کے احتجاج میں ناکامی کے بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں قانون کی حکمرانی ہے اور بانی پی ٹی آئی کو بروقت تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل مینو ایسا ہے جو کسی عام آدمی کے گھر میں بھی میسر نہیں ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اڈیالہ جیل بینائی پی ٹی آئی سپرینڈنٹنٹ سلمان اکرم راجا طلال چوہدری عمران خان آنکھ مقدمہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پی ٹی ا ئی سلمان اکرم راجا طلال چوہدری عمران خان ا نکھ بانی پی ٹی آئی کا سلمان اکرم راجہ عبدالغفور انجم طلال چوہدری اہل خانہ کو اڈیالہ جیل نے کہا کہ انہوں نے جیل میں تھا کہ رہی ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔