اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی طلبہ کے لیے سعودی عرب میں فلی فنڈڈ انٹرن شپ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ وظیفے کے ساتھ دیگر سہولیات بھی دی جائیں گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) نے اپنے وزٹنگ اسٹوڈنٹ ریسرچ پروگرام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر درخواستوں کا آغاز کر دیا۔

یہ مکمل طور پر فنڈڈ بین الاقوامی تحقیقی انٹرنشپ پروگرام پاکستان سمیت دنیا بھر کے انڈرگریجویٹ اور ماسٹرز طلبہ کے لیے دستیاب ہے۔

اس پروگرام کے تحت منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک ہزار امریکی ڈالر وظیفہ دیا جائے گا جب کہ راؤنڈ ٹرپ ہوائی ٹکٹ، کیمپس میں مفت رہائش، مکمل ہیلتھ انشورنس، ویزا سپورٹ اور جدید لیبارٹریز تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔

انٹرن شپ کی مدت 3 سے 6 ماہ ہوگی اور شرکا عالمی شہرت یافتہ فیکلٹی کی نگرانی میں تحقیقی منصوبوں پر کام کریں گے۔

پروگرام سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، انرجی اسٹڈیز، ماحولیاتی سائنس اور حیاتیاتی علوم شامل ہیں۔ اس دوران طلبہ کو عالمی معیار کی تحقیق اور جدید سائنسی طریقہ کار سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوگی۔

پاکستان سمیت تمام ممالک کے انڈرگریجویٹ (کم از کم تیسرے سال) اور ماسٹرز طلبہ درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا کم از کم جی پی اے 3.

5 ہو۔ انگریزی زبان پر عبور ضروری ہے تاہم IELTS یا TOEFL لازمی نہیں۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ، KAUST کے موجودہ اور سابق طلبہ اس پروگرام کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

درخواست آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جائے گی، جس کے لیے تازہ ترین سی وی، سرکاری تعلیمی ٹرانسکرپٹ، سفارشی خط، ذاتی بیان اور کارآمد پاسپورٹ کی نقل درکار ہوگی۔

درخواستیں پورے سال قبول کی جاتی ہیں اور شارٹ لسٹ امیدواروں کو چند ہفتوں میں مطلع کیا جاتا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے امیدوار KAUST کی سرکاری ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنا کر مطلوبہ معلومات اور دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔

KAUST کا وزٹنگ اسٹوڈنٹ ریسرچ پروگرام ابھرتے ہوئے محققین کے لیے ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جو تحقیقی مہارتوں کے فروغ اور بین الاقوامی تعلیمی روابط کے قیام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ