عمران خان کی صحت کا معاملہ، قاسم خان کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کا کہنا ہے کہ ان کے والد عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی بڑی حد تک متاثر ہو چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق اب صرف 15 فیصد نظر باقی رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو 922 روزہ قید تنہائی، طبی معائنے خصوصاً خون کے ٹیسٹ نہ کرانے دینے، اور جیل میں مناسب علاج کی عدم فراہمی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں قاسم خان نے موجودہ حکومتی انتظامیہ اور متعلقہ ذمہ داران پر الزام عائد کیا کہ عمران خان کی جسمانی حالت میں بگاڑ ان کی نگرانی اور احکامات کے تحت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے نظام کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ عمران خان کو مسلسل تنہائی میں رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کے بھائی کو اپنے والد سے ملاقات کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جا رہے جبکہ ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے، اور یہ صورتحال تاریخ میں بطور ناانصافی درج ہوگی۔
بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے، وفاقی وزیر طارق فضل چودھری
انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی اداروں اور جمہوری ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ان کے بقول ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔