پاکستان میں پہلی بار ماحولیاتی نمونوں میں پولیو کی کم ترین شرح ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)جنوری 2026 میں87 میں سے 67 اضلاع کے ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے پاک پائے گئے:پاکستان کے بیشتر اضلاع کے ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے پاک نکلے۔حکام کے مطابق پاکستان کے بیشتر اضلاع میں پولیو وائرس کی رپورٹ منفی آئی ہے اور اس سال کے شروع میں پاکستان بھر کے بیشتر ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے پاک نکلے۔حکام نے بتایا کہ جنوری 2026 میں87 میں سے 67 اضلاع کے ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے پاک پائے گئے جب کہ ملک بھر میں 127 مقامات سے لیےگئے نمونوں میں صرف 24میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، اکتوبر 2023 کے بعد پہلی بار پولیو کے ماحولیاتی نمونوں میں کم ترین مثبت شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔
کراچی کے تمام 7 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف۔ملک میں پولیو وائرس کے آؤٹ بریک کا خطرہ، وزیراعظم نے اجلاس طلب کرلیا۔حکام کے مطابق پنجاب، اسلام آباد، آزادکشمیر اورگلگت بلتستان میں تمام ماحولیاتی نمونے پولیو سے پاک نکلے جب کہ بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی اور کیچ میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو کے 4 ماحولیاتی نمونے مثبت رپورٹ ہوئے، سندھ میں زیادہ تر مثبت نمونے کراچی اور ملحقہ اضلاع سے رپورٹ ہوئے جب کہ کراچی کے 4 ماحولیاتی مقامات طویل عرصے بعد پولیو وائرس سے پاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق ماحولیاتی نگرانی پولیو وائرس کی بروقت نشاندہی کا مؤثر ذریعہ ہے، پولیو مہم کے دوران تقریباً 10 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہے، پولیو ویکسین سے انکار کی بڑی وجہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات ہیں۔واضح رہے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔